ہومتازہ ترینامریکا سے مذاکرات کیلئے اعتماد کی بحالی ضروری ہے، ایرانی صدر

امریکا سے مذاکرات کیلئے اعتماد کی بحالی ضروری ہے، ایرانی صدر

تہران (لارڈ میڈیا): ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات اعتماد کے شدید فقدان کے باعث ممکن نہیں ہیں۔ انہوں نے سی بی این نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکا ایرانی شرائط تسلیم کر لے تو ایران 7 روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔ ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو تجویز پیش کی ہے اور منظوری کے بعد فوری عمل درآمد ممکن ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی سمجھوتے کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے اور پہلے ان رکاوٹوں کو دور کیا جائے جو آبنائے ہرمز کے راستے میں حائل ہیں۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد دیگر معاملات پر مذاکرات ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری پروگرام پر پابندیوں کے حوالے سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے دائرہ کار میں ایرانی جوہری پروگرام کی حدود طے کی جا سکتی ہیں اور جوہری تنصیبات کے معائنے سے متعلق نئے انتظامات پر بھی اتفاق ممکن ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے باہمی اعتماد کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ امریکا کو یقین دہانی کرانا ہوگی کہ اس کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا نہیں ہے۔ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم حملے کی صورت میں اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔

مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ امریکی پابندیاں ایرانی عوام کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں اور تہران دباؤ اور دھمکی کے ذریعے کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا۔ اگر امریکا تحریری معاہدوں اور وعدوں پر عمل کرے تو مذاکرات کے ذریعے اعتماد بحال کیا جاسکتا ہے۔ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر خطے کو ترقی دینے کے لیے تیار ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں