ہومتازہ ترینجاپان کے سابق وزیراعظم ہاتویاما کا تاکائیچی سے تائیوان کے متعلق بیانات...

جاپان کے سابق وزیراعظم ہاتویاما کا تاکائیچی سے تائیوان کے متعلق بیانات واپس لینے کا مطالبہ

بیجنگ (شِنہوا) جاپان کے سابق وزیراعظم یوکیو ہاتویاما نے موجودہ جاپانی وزیراعظم سنائی تاکائیچی پر زور دیا ہے کہ وہ چین کے تائیوان کے حوالے سے اپنے غلط بیانات واپس لیں۔

انہوں نے جاپانی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ ایک چین کے اصول پر کاربند رہے۔

ہاتویاما نے ان خیالات کا اظہار چینی دارالحکومت میں منگل سے جمعرات تک جاری رہنے والے 13 ویں بیجنگ شیانگ شان فورم کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاکائیچی کو اپنے بیانات واپس لینے چاہئیں یا کسی اور طریقے سے ’’بالکل واضح انداز میں‘‘ یہ کہنا چاہیے کہ جاپان ایک چین کے اصول کا پختہ احترام کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں پارلیمنٹ کے ایک اجلاس میں تاکائیچی نے کہا تھا کہ چینی مین لینڈ کی جانب سے ’’تائیوان پر طاقت کا استعمال‘‘ جاپان کے لئے ’’بقا کو خطرے میں ڈالنے والی صورتحال‘‘ کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان سے رجوع کرنے سے انکار کیا، جس سے آبنائے تائیوان میں مسلح مداخلت کے امکان کا عندیہ ملتا ہے۔

تاکائیچی کے اشتعال انگیز بیانات نے پورے چین میں وسیع پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا جبکہ چین نے بارہا جاپان پر زور دیا کہ وہ یہ بیانات واپس لے۔

ہاتویاما نے کہا کہ تاکائیچی کے بیانات ’’انتہائی افسوسناک‘‘ اور جاپانی حکومت کے سابقہ اور سرکاری موقف کے منافی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر تاکائیچی تائیوان سے متعلق اپنے بیانات میں کوئی بڑی تبدیلی لاتی ہیں تو وہ اس کی تعریف کریں گے۔

تاہم ہاتویاما نے مزید کہا کہ تاکائیچی کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے میرے لئے پرامید رہنا مشکل ہے جبکہ انہوں نے یہ نشاندہی بھی کی کہ وہ جاپان اور چین کے درمیان بات چیت اور تبادلے کو فروغ دینے کی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

’استحکام پر اتفاق رائے پیدا کرنا، سکیورٹی نظم و نسق مل کر آگے بڑھانا‘ کے موضوع پر ہونے والے اس سال کے فورم میں تقریباً 100 ممالک، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں