کوالالمپور (شِنہوا) ملائیشیا کے ایک کاروباری رہنما نے کہا ہے کہ ملائیشیا کے کاروباری ادارے رواں سال چین-آسیان نمائش میں دستیاب امکانات اور مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے خواہاں ہیں۔
ملائیشیا کی ایسوسی ایٹڈ چائنیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (اے سی سی سی آئی ایم) کے صدر نگ ییہ پائنگ نے شِنہوا کو انٹرویو میں بتایا کہ یہ مسلسل تیسرا سال ہے کہ میں ایکسپو میں ایک وفد کی قیادت کر رہا ہوں۔
نگ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایکسپو ملائیشیا کے کاروباری اداروں کو اپنی مصنوعات اور منڈیوں کو مزید وسعت دینے کے ساتھ ساتھ صنعتی و ترسیلی سلسلے، ٹیکنالوجی کے استعمال اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں طویل مدتی تزویراتی شراکت دار تلاش کرنے میں مدد دے گی۔
چین-آسیان ایکسپو کا 23واں ایڈیشن چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خودمختار علاقے کے دارالحکومت نان ننگ میں منعقد ہوگا۔
نگ نے کہا کہ آسیان اور چین کے درمیان تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے جبکہ چین میں منعقد ہونے والی مختلف نمائشوں نے دونوں فریقوں کے درمیان تعاون، شراکت دار تلاش کرنے اور کاروبار کو وسعت دینے کے لئے وسیع مواقع فراہم کئے ہیں۔

چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خودمختار علاقے کے شہر ڈونگ شنگ کی ایک گلی میں ویتنامی مصنوعات فروخت کی جارہی ہیں۔(شِنہوا)
گزشتہ سال کی نمائش کے حوالے سے نگ نے کہا کہ اے سی سی سی آئی ایم نے کاروباری اداروں کے لئے دوروں کا اہتمام کیا جس سے انہیں نہ صرف نمائش میں شرکت کا موقع ملا بلکہ صنعتی، تزویراتی اور سرمایہ کاری کے مواقع کو زیادہ بہتر انداز سے سمجھنے میں بھی مدد ملی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نمائش کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ زمینی سطح پر مواقع کی جانچ پڑتال اور مزید مضبوط روابط کے قیام کا آغاز ہوتی ہے۔
نگ نے بتایا کہ اے سی سی سی آئی ایم رواں سال کی نمائش میں شرکت کے لئے 15 رکنی وفد تشکیل دے گی جس کی خصوصی توجہ ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت کے استعمال، جدید پیداوار، ماحول دوست توانائی اور سرحد پار سپلائی نظام سمیت جدید اور ابھرتے ہوئے شعبوں پر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جب کاروباری ادارے چین کا دورہ کریں تو وہ صرف نمائشوں اور مطالعاتی دوروں میں شرکت تک محدود نہ رہیں بلکہ منظم تبادلوں کے ذریعے چین کے ترقیاتی ماڈل، صنعتی رجحانات اور تکنیکی جدت میں ہونے والی پیش رفت کو بھی زیادہ سے زیادہ سمجھیں۔
موجودہ عالمی اقتصادی اور تجارتی ماحول کے بارے میں بات کرتے ہوئے نگ نے کہا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر آسیان اور چین کو علاقائی تعاون مزید مضبوط کرنا چاہیے اور آزاد تجارت اور سپلائی چین کے ہموار نظام کو تحفظ دینا چاہیے۔
نگ نے کہا کہ مستقبل میں ملائیشیا اور چین کا تعاون صرف خرید و فروخت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ چینی ٹیکنالوجی اور ملائیشیا کی صنعتی صلاحیتوں کو ملا کر آسیان اور عالمی منڈیوں میں مشترکہ طور پر کاروبار بڑھایا جائے گا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔


