ریاض (لارڈ میڈیا): سعودی عرب نے عراقی ملیشیا کے ڈرون حملوں کے بعد یورپ کو خام تیل کی سپلائی روک دی ہے۔ ان حملوں کا نشانہ سعودی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن تھی، جس کے بعد سعودی آرامکو نے یورپی ریفائنریز کو خام تیل کے کارگو منسوخ اور مؤخر کر دیے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق، ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ان حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے بعد عارضی طور پر پائپ لائن کو بند کیا گیا تھا، جبکہ اب یورپ کو سپلائی بھی معطل کر دی گئی ہے۔
اس پائپ لائن سے روزانہ 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوتی تھی۔ سعودی عرب کا یہ فیصلہ یورپ بھر میں تشویش کا باعث بنا ہے۔
امریکی انرجی سیکرٹری کرس رائٹ نے کہا کہ پائپ لائن چند دنوں میں دوبارہ کھولی جا سکتی ہے جبکہ مرمت میں 3 سے 6 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق، عراقی وزیراعظم کی درخواست پر فی الحال جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی، تاہم حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔


