واشنگٹن (شِنہوا) ریپبلکن قانون ساز تھامس میسی نے ایران کے خلاف جنگ اور اختیارات کے استعمال کے معاملے پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کر دی۔
کینٹکی سے تعلق رکھنے والے قانون ساز نے ایوان نمائندگان کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے ہیگسیتھ پر "سنگین جرائم اور بدعنوانی” کے الزامات عائد کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیگسیتھ نے 1973 کے جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد کی خلاف ورزی کی، ایران تنازع میں امریکی فوجی مداخلت ختم کرنے سے متعلق کانگریس کی ہدایات کو نظرانداز کیا، شہری ہلاکتوں کو کم کرنے کے لئے بنائے گئے قوانین کو نظر انداز کیا اور منشیات کے مشتبہ سمگلروں کے خلاف ماورائے عدالت حملوں کی اجازت دی یا ان کی نگرانی کی۔
میسی نے ہیگسیتھ پر عہدے کے اختیارات کے ناجائز استعمال کا بھی الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیگسیتھ نے ٹرمپ انتظامیہ کے ناقدین کو آزادی اظہار کے حق کے استعمال پر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔
ایران کے خلاف جنگ اب ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور امریکی عوام میں اس کی مقبولیت میں مسلسل کمی آئی ہے، جس کے باعث ریپبلکن قانون سازوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ریپبلکن کے کتنے ارکان میسی اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر مواخذے کی اس تجویز کی حمایت کریں گے۔
یہ تحریک ایسے وقت سامنے آئی جب دی ہل نے اسی روز رپورٹ کیا کہ پینٹاگون نے گزشتہ ماہ کانگریس کو آگاہ کیا تھا کہ ایران جنگ کی لاگت 42 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے جو محکمہ دفاع کے سابقہ سرکاری تخمینے سے 4.5 ارب ڈالر زیادہ ہے۔
توقع ہے کہ ایوان جمعرات تک میسی کی قرارداد پر کارروائی کرے گا، جس کے باعث ارکان کو اس پر غور کے لئے بہت کم وقت ملے گا۔ ایوان رواں ہفتے کے آخر میں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل موسم خزاں کی معمول کی تعطیلات کے لئے اجلاس ملتوی کرنے والا ہے۔
میسی کی طرف سے پیش کی گئی تحریک ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی یہ دوسری کوشش ہے۔ اس سے قبل ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹس نے اپریل میں مواخذے کی چھ نکاتی تحریک پیش کی تھی۔


