لاہور (لارڈ میڈیا): امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور ریلیف کے ڈراما بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرے گی جبکہ شہروں میں جاری دھرنے بھی جاری رہیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال 1567 ارب روپے لیوی جمع کی، لیکن پالیسی ریٹ کم کرنے پر تیار نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لیوی کے نام پر حکومت غنڈہ گردی کر رہی ہے اور فی لیٹر 135 روپے بھتہ لے رہی ہے۔
انہوں نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ برقرار رکھنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی مہنگائی کم کرنے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلند شرح سود سے قرض بڑھیں گے اور حکومت کو عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اضافے کی صورت میں اپنے محصولات کم کرنے چاہئیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت نے 25 ارب روپے کا ریلیف دیا ہے لیکن اس کے اشتہارات پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں اور پیٹرول پمپس پر ایپ کی نگرانی کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز شریف کی جانب سے ٹریکٹر اور لیپ ٹاپ اسکیمز کے بجائے حکومت کو اصل مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مریم نواز نے 11 ارب روپے کا جہاز کن کے پیسوں سے لیا؟
حافظ نعیم نے پی ٹی سی ایل کے شیئرز کی ملکیت اور حکومتی خرچوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی شاہ خرچیاں ختم نہیں ہوتیں اور قوم پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے محکمے 18ویں ترمیم کے بعد ختم ہوجانا چاہیے تھے لیکن وہ اب بھی چل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کو لیوی کے خاتمے اور مختلف تجاویز پیش کی ہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ اس وقت 40 مقامات پر دھرنے جاری ہیں اور 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن احتجاج چاہتے ہیں اور عوام مکمل طور پر تیار ہیں۔
میر رضا قتل کیس پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ کیس میں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ سندھ کے بلدیاتی نظام پر انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت کے بلدیاتی ایکٹ کو تسلیم نہیں کرتی اور ترمیمی ایکٹ کو مسترد کرتی ہے۔


