بیجنگ (شِنہوا) ڈیجیٹل تجارت اور صنعتی تعاون کے فروغ کے لئے منعقد ہونے والی 5 ویں عالمی ڈیجیٹل تجارتی نمائش 23 سے 27 ستمبر تک چین کے مشرقی صوبے ژے جیانگ کے دارالحکومت ہانگ ژو میں منعقد ہوگی جس کا مرکزی موضوع مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہوگا۔
چین کے نائب وزیر تجارت یان ڈونگ نے بتایا کہ ایک تہائی سے زیادہ نمائش کنندگان مصنوعی ذہانت پر توجہ مرکوز کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اے آئی ایپلیکیشن پائلٹ بیسز بھی اجتماعی طور پر پہلی بار متعارف کرائے جائیں گے جو بنیادی ماڈلز، صنعتی ایپلیکیشنز اور سمارٹ آلات پر مشتمل مکمل سلسلہ وار اختراعی ماحولیاتی نظام پیش کریں گے۔
نمائش کے موقع پر مصنوعی ذہانت سے متعلق متعدد مقابلے بھی منعقد ہوں گے جن میں اوپن سورس ڈیویلپمنٹ، مجسم ذہانت اور برین-کمپیوٹر انٹرفیس ٹیکنالوجی جیسے شعبے شامل ہوں گے۔
نمائش ایک لاکھ 70 ہزار مربع میٹر احاطے پر محیط ہوگی جبکہ بین الاقوامی نمائش کنندگان مجموعی تعداد کے 20 فیصد سے زیادہ ہوں گے۔ بیرون ملک پویلینز کی تعداد گزشتہ تمام ایڈیشنز کی مجموعی تعداد سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
ملائیشیا اور ہنگری اعزازی مہمان ممالک ہوں گے جبکہ 121 ممالک اور خطوں اور 29 بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی تصدیق کی ہے۔
نمائش نے اب تک تقریباً 40 ہزار پیشہ ور خریداروں کو متوجہ کیا ہے جن میں 12 ہزار سے زیادہ بیرون ملک سے ہیں۔ بین الاقوامی خریداری کے متوقع آرڈرز کی مالیت 97 کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
چین کی ڈیجیٹل طور پر قابل فراہمی خدمات کی تجارت کی مالیت میں 2016 سے 2025 کے درمیان اوسط سالانہ شرح سے 11.2 فیصد اضافہ ہوا، جو عالمی اوسط سے 1.8 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
نومبر 2024 میں ڈیجیٹل تجارت میں اصلاحات اور اختراعی ترقی کو فروغ دینے سے متعلق جاری کی گئی ایک رہنما اصول کے مطابق چین کو توقع ہے کہ خدمات کی مجموعی تجارت میں ڈیجیٹل طور پر قابل فراہمی خدمات کی تجارت کا حصہ 2029 تک 45 فیصد اور 2035 تک 50 فیصد سے تجاوز کر جائے گا۔
یان نے مزید کہا کہ وزارت تجارت دیگر سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر اس رہنما اصول پر عملدرآمد کرے گی، مقامی حکومتوں کو ڈیجیٹل تجارت کے فروغ کے لئے مقامی حالات کے مطابق پالیسیاں وضع کرنے میں معاونت فراہم کرے گی اور اس شعبے کی ترقی کے لئے مربوط کوششوں کو فروغ دے گی۔


