جوہانسبرگ (شِنہوا) جنوبی افریقہ کے ایک ماہر اقتصادیات نے کہا ہے کہ چین کا خدمات کی تجارت کا بین الاقوامی میلہ (سی آئی ایف ٹی آئی ایس) خدمات کے تبادلے میں نئے مواقع تلاش کرنے کے لئے معیشتوں اور کاروباری اداروں کو ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے کیونکہ علم اور معلومات عالمی اقتصادی ترقی کے لئے تیزی سے اہم محرکات بن رہے ہیں۔
یونیورسٹی آف ساؤتھ افریقہ کے شعبہ اقتصادیات کے پروفیسر سمفی وے میڈیکیزیلا نے شِنہوا کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ سی آئی ایف ٹی آئی ایس صرف ایک نمائش تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ خیالات، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی شراکت داری کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم بن جائے گا۔
2026 کا سی آئی ایف ٹی آئی ایس 9 سے 13 ستمبر تک بیجنگ میں منعقد ہوگا، جس میں 90 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائش کنندگان کے علاوہ ایک ہزار 800 سے زیادہ کمپنیاں شرکت کریں گی۔
میڈیکیزیلا نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں میلے کا موضوع "عالمی خدمات، مشترکہ خوشحالی” خاص طور پر اہم ہے کیونکہ عالمی معیشت پیداواری مصنوعات کی تجارت پر مبنی ماڈل سے بتدریج ایسے نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جس میں خدمات، ٹیکنالوجی اور تخلیقی ملکیت زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی خدمات کی تجارت اس تبدیلی کی ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی خدمات کی تجارت سالانہ بنیاد پر 8.3 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 37.8 کھرب یوآن (تقریباً 556.56 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی۔
میڈیکیزیلا نے کہا کہ چین کی خدمات کی تجارت تیزی سے زیادہ قدر رکھنے والی سرگرمیوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علم پر مبنی خدمات کی تجارت 16.6 کھرب یوآن تک پہنچ گئی جو خدمات کی مجموعی تجارت کا 44 فیصد ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں اس شعبے میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایسی خدمات کی برآمدات میں 12.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت صرف چین ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لئے بھی اہم ہے کیونکہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت نہ صرف اشیاء کی ایک بڑی پیداوار کنندہ بن رہی ہے بلکہ خدمات کی ایک اہم منڈی اور فراہم کنندہ بھی بنتی جا رہی ہے۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ کے شو گانگ پارک میں منعقدہ چین کی خدمات کی تجارت کے بین الاقوامی میلے 2025 (سی آئی ایف ٹی آئی ایس) میں مہمان ایم آر ڈیوائسز کے ذریعے ’’یہ شانگ ہے‘‘ کے عنوان سے نمائش دیکھ رہے ہیں۔(شِنہوا)
چین کی وسیع داخلی منڈی اور طلب کو اجاگر کرتے ہوئے ماہر اقتصادیات نے کہا کہ ایک کھلی چینی معیشت تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، ڈیجیٹل خدمات، پیشہ ورانہ خدمات، ٹیکنالوجی اور جدت کے ذریعے عالمی اقتصادی ترقی میں معاونت کر سکتی ہے۔
میڈیکیزیلا نے کہا کہ ایسے وقت میں جب جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تحفظ پسندی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے، خدمات کے شعبے میں زیادہ تعاون ایک ایسا اضافی راستہ فراہم کر سکتا ہے جس کے ذریعے معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پس منظر میں سی آئی ایف ٹی آئی ایس بین الاقوامی خدمات کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔


