ہومتازہ ترینکچرے سے بجلی تک، چینی پلانٹ کے ذریعے بشکیک کی ماحول دوست...

کچرے سے بجلی تک، چینی پلانٹ کے ذریعے بشکیک کی ماحول دوست تبدیلی کو تقویت مل رہی ہے

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں کچرے کے ایک بڑے ڈھیر کو بجلی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (روسی): اکتان اکِیل بیکوف، مرکزی کنٹرول آپریٹر، چینی ساختہ ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ، بشکیک
’’آپ وہ پہاڑ دیکھ رہے ہیں؟ یہ کچرے کا ڈھیر ہے۔ یہاں کی بدبو برداشت سے باہرہے۔ میں پہلے سوچتا تھا کہ ساری زندگی اسی کے قریب ہی رہنا پڑے گا۔‘‘

چین کے تعاون سے بنائے گئے ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ پر کام کا آغاز دسمبر 2025 میں ہو گیا تھا۔ اس پلانٹ نے بشکیک کی ماحول دوست منتقلی کو نئی تقویت فراہم کی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (روسی): اکتان اکِیل بیکوف، مرکزی کنٹرول آپریٹر، چینی ساختہ ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ، بشکیک
’’میں مرکزی کنٹرول روم میں کام کرتا ہوں جہاں بڑی اسکرین پر پلانٹ میں کچرے کی پراسیسنگ اور بجلی کی پیداوار کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی میرے ذمے ہے۔میں آپریشن سے متعلق اعداد و شمار پر نظر رکھتا ہوں اور ان کا ریکارڈ مرتب کرتا ہوں۔‘‘

روزانہ 3 ہزار ٹن کچرے کو پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھنے والا یہ پلانٹ فی الحال پہلے مرحلے میں ہے اور روزانہ ایک ہزار ٹن کچرے کو پراسیس کر رہا ہے۔ پلانٹ سالانہ تقریباً 14 کروڑ 60 لاکھ کلو واٹ آور بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ اندازہ ہے کہ اس سے ہر سال کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں ایک لاکھ ٹن تک کمی آئے گی۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): ژانگ جِن فانگ، منصوبے کے جنرل ڈائریکٹر
’’ہم گھریلو کچرے کو گھٹاتے اور ری سائیکل کرتے ہیں جس سے مقامی ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔ کچرے کو بجلی میں تبدیل کرکے ہم بہت سے گھرانوں تک بجلی پہنچا سکتے ہیں۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 4 (روسی): گلنارا علی پووا، مقامی رہائشی
’’ماضی میں ہر طرف کچرا ہی کچرا ہوتا تھا اور بدبو بہت شدید تھی۔ صورتحال نہایت خراب تھی۔ پلانٹ کی تعمیر کے بعد یہ علاقہ کافی صاف ستھرا ہو گیا ہے۔ ہر چیز میں بہتری آئی ہے اور ہر کوئی خوش ہے۔‘‘

وسطی ایشیا کے اس ملک میں اسی نوعیت کے مزید دو پلانٹس بھی تعمیر کئے جا رہے ہیں۔

اکِیل بیکوف کو اس ماحول دوست تبدیلی کا حصہ بننے کے باعث کرغزستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (روسی): اکتان اکِیل بیکوف، مرکزی کنٹرول آپریٹر، چینی ساختہ ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ، بشکیک
’’میرا ماننا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو جیسے فریم ورکس کے تحت کرغزستان اور چین کے درمیان تعاون دونوں ممالک کے عوام کے لئے مزید ٹھوس فوائد لائے گا۔‘‘

بشکیک سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں