چین میں تیزی سے فروغ پاتی مصنوعی ذہانت کی صنعت دنیا بھر کے کاروباری افراد کے لئے نئے مواقع کے دروازے کھول رہی ہے۔
’’ٹوکن: ڈیٹا عناصر کی قدر کا نیا راستہ‘‘ کے موضوع پر گوئی یانگ میں جاری 2026 چائنہ انٹرنیشنل بگ ڈیٹا انڈسٹری ایکسپو نے 372 ملکی و بین الاقوامی کمپنیوں کی توجہ حاصل کی ہے جبکہ اس میں 16 ہزار سے زائد رجسٹرڈ مہمان شریک ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): یونس ادبورجا، مراکشی کاروباری شخصیت
’’دو برس پہلے میں اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے چین آیا تھا۔ بعد میں مجھے احساس ہوا کہ یہاں بہت اچھے مواقع موجود ہیں۔ پھر میں نے یہاں چین میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ ایک نئی کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی جہاں میں نے ’ڈیپ سورس‘ کے نام سے اپنے منصوبوں پر کام شروع کیا۔‘‘
یونس کا کہنا ہے کہ چین میں مصنوعی ذہانت کے شعبے نے اِنہیں کاروباری سفر میں بھرپور مدد فراہم کی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): یونس ادبورجا، مراکشی کاروباری شخصیت
’’چین میں یہ کام شروع کرنے کی وجہ خود چین کی جانب سے ملنے والی مدد تھی۔ یہاں کی حکومت بھی بھرپور تعاون کر رہی ہے۔‘‘
وہ چین میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو نئے مواقع کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): یونس ادبورجا، مراکشی کاروباری شخصیت
’’چین میں مصنوعی ذہانت اس قدر تیزی سے ترقی کر رہی ہے کیونکہ تقریباً ہر ماہ ہمیں چین سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کچھ نہ کچھ نیا اور حیران کن دیکھنے کو ملتا ہے۔ چین میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائے گئے منصوبے بھی بہت امید افزا ہیں اور یہ شعبہ نہایت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔
یہ شعبہ ہر طرح سے مددگار ہے کیونکہ چین جو کچھ بھی تیار کرتا ہے وہ اوپن سورس ہوتا ہے۔ چین اپنی کمپنیوں، افراد اور پورے کاروباری شعبے کی مدد کے لئے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتا ہے۔ اس لئے چین جو بھی ٹیکنالوجی تیار کرتا ہے ہم اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘‘
گوئی یانگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


