ہومتازہ ترینشی جن پھنگ چین۔روس تعلقات کی مزید مضبوط بنیاد اور روشن مستقبل...

شی جن پھنگ چین۔روس تعلقات کی مزید مضبوط بنیاد اور روشن مستقبل کے لئے پر امید

بشکیک (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ ان کی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی تذویراتی رہنمائی اور دونوں فریقوں کی مشترکہ کوششوں کے تحت چین-روس تعلقات کی بنیاد پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، ان کی پیش رفت پہلے سے کہیں زیادہ پائیدار اور مستقبل پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہوگا۔

شی نے ان خیالات کا اظہار کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس 2026 کے موقع پر پوتن سے ایک ملاقات کے دوران کیا۔

صدر شی نے کہا کہ مئی میں پوتن کے کامیاب سرکاری دورہ چین کے موقع پر ہم دونوں نے طویل المدتی اور تذویراتی نقطہ نظر سے دوطرفہ تعلقات مثالی اور بلند تر سطح کی ترقی کی جانب گامزن کرنے کے انتظامات کئے تھے اور نئے حالات کے تناظر میں چین اور روس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون گہرا کرنے پر اتفاق رائے کیا تھا۔

شی نے کہا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام اس اتفاق رائے پر فعال طور پر عملدرآمد کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں پہلے ہی پیش رفت سامنے آ چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تبادلوں اور تعاون کا عمل بھر پور انداز میں جاری ہے۔

شی نے نشاندہی کی کہ ایک صدی میں دیکھی نہ جانے والی گہری تبدیلیوں میں تیزی کے پس منظر میں بین الاقوامی سطح پر غیر یقینی اور غیر متوقع عوامل میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم امن، ترقی، تعاون اور باہمی مفاد کے حصول کے لئے دنیا بھر کے لوگوں کی خواہش میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس سی او پر علاقائی استحکام کے تحفظ اور علاقائی ترقی کے فروغ کی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین، روس اور دیگر تمام فریقوں کے ساتھ مل کر ایس سی او کی ترقی کی سمت متعین کرنے، اس کی مستحکم و مسلسل پیش رفت یقینی بنانے میں مدد دینے اور عالمی نظم و نسق کی اصلاح کے ساتھ ساتھ ایک مساوی اور منظم کثیر قطبی دنیا کے قیام کی پیش رفت کے لئے محرک قوت کو مضبوط بنانے کے لئے تیار ہے۔

صدر پوتن نے اس موقع پر کہا کہ روس اور چین نے ایک مشکل اور پیچیدہ بین الاقوامی منظرنامے کے باوجود مساوات، باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کی حمایت کے اصول برقرار رکھتے ہوئے اپنے جامع تذویراتی تعاون کو مسلسل وسعت دی ہے، مختلف شعبوں میں تعاون اور ترقی کو تیزی سے فروغ ملا اور روس-چین تعلقات دیگر ممالک کے لئے ایک اعلیٰ مثال بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس چین کے ساتھ اعلیٰ سطح کے تبادلے برقرار رکھنے، تجارت، توانائی، صنعت، نقل و حمل اور سائنس و ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے، عوامی رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے اور دوطرفہ تعلقات کو نئے مثبت نتائج کی جانب گامزن کرنے کا خواہاں ہے۔

پوتن نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے ایس سی او نمایاں بین الاقوامی اثر و رسوخ کے حامل ایک متحرک اور موثر علاقائی تعاون کے پلیٹ فارم میں ڈھل چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس اور چین کو اس تنظیم کے تحت اپنی یکجہتی اور تعاون کو مسلسل مضبوط بنانا چاہیے اور ایک قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ روس اقوام متحدہ، برکس اور جی 20 جیسے کثیر الجہتی فورمز کے فریم ورک کے تحت چین کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون مضبوط بنانے، اپیک اقتصادی رہنماؤں کے اجلاس کی میزبانی میں چین کی حمایت کرنے، عالمی امن، استحکام و خوشحالی کا مل کر تحفظ کرنے کے لئے تیار ہے۔

دونو ں سربراہان مملکت نے باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں