واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو میل ان بیلٹ منصوبے کو آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے ریاستوں کی جانب سے دائر قانونی دعوے کو قبل از وقت قرار دیا۔ اس فیصلے کے تحت اب حکومت کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ کس کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اجازت دے گی۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اس منصوبے کو روکنے کے لیے 23 امریکی ریاستوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ تاہم، سپریم کورٹ نے ان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبے پر عائد رکاوٹ ختم کر دی ہے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد شہریت کی فہرستیں تیار کی جائیں گی تاکہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے لیے اہل افراد کا تعین کیا جا سکے۔


