واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی بحریہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش پر مستقبل کے طیارہ بردار بحری جہازوں کے ڈیزائن میں تبدیلی پر غور شروع کردیا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد جہازوں کو دوسری جنگ عظیم کے دور کے بحری جہازوں جیسی شکل دینا ہے۔
امریکی بحریہ طیارہ بردار جہاز کے کمانڈ سینٹر، جسے ’آئی لینڈ‘ کہا جاتا ہے، کو موجودہ مقام سے جہاز کے درمیانی حصے کی طرف منتقل کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔ سابق اہلکاروں کے مطابق اس تبدیلی پر اربوں ڈالر اضافی خرچ ہو سکتے ہیں اور جہازوں کی تیاری میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بھی بحریہ کو بھاپ سے چلنے والے اسٹیم کیٹپلٹس دوبارہ استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے، جو جنگی طیاروں کو بحری جہاز کے ڈیک سے پرواز بھرنے میں مدد دیتا ہے۔
اس وقت فورڈ کلاس کے تین طیارہ بردار جہاز مختلف مراحل میں ہیں، جن میں یو ایس ایس جان ایف کینیڈی، یو ایس ایس انٹرپرائز اور یو ایس ایس ڈورس ملر شامل ہیں۔ امریکی بحریہ آئندہ چار دہائیوں میں فورڈ کلاس کے 10 جہاز بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے، جن کی متوقع لاگت تقریباً 22 ارب ڈالر ہے۔
دوسری جانب امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کی طویل تعیناتی بھی زیر بحث ہے، جو ایران کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کے لیے مشرق وسطیٰ بھیجا گیا تھا۔


