چین سے ہزاروں کلومیٹر دور آذربائیجان میں چین کا ایک روایتی مارشل آرٹ ’وِنگ چھون‘ اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے اور اس کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
سال 2008 میں آصف سیادوف نے باکو کے ایک مقامی کلب کے ذریعے وِنگ چھون کی ترویج کا آغاز کیا تھا۔ آج وہ آذربائیجان وِنگ چھون فیڈریشن کے صدر ہیں۔ یہ تنظیم سال 2018 میں باضابطہ طور پر رجسٹر ہوئی تھی۔
گزشتہ برسوں میں وِنگ چھون کے آذربائیجانی کھلاڑیوں نےمقابلوں اور ثقافتی تبادلوں کے لئے چین سمیت دیگر ممالک کے سفر کئے ہیں۔
جولائی میں آذربائیجان کے ایک وفد نے چین کے جنوبی صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر فوشان کا سفر کیا جہاں اس نے سال 2026 کے بین الاقوامی وِنگ چھون مقابلے میں شرکت کی۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (روسی): محمود مہتی اوغلو، نائب صدر، آذربائیجان وِنگ چھون فیڈریشن
’’گزشتہ 18 برسوں سے ہم آذربائیجان میں اس مارشل آرٹ کی مشق کر رہے ہیں۔ اس عرصے میں ہم نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ہم بین الاقوامی مقابلوں میں شریک ہوئے۔ ہمارے کھلاڑیوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں اور اپنے ملک کے لئے سونے کے تمغے جیتے۔سالہا سال سے ہماری فیڈریشن وِنگ چھون کو محض ایک مارشل آرٹ کے طور پر فروغ نہیں دے رہی۔ وِنگ چھون کا ایک اپنا فلسفہ ہے جو ہمارے کھلاڑیوں کی ذہنی و روحانی نشوونما کے ساتھ ساتھ انہیں خود نظم و ضبط پیدا کرنے میں بھی مدد دیتاہے۔
ہماری تنظیم آذربائیجان میں چینی مارشل آرٹس اور چینی ثقافت کو فعال انداز میں فروغ دے رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری تنظیم آذربائیجان اور چین کے درمیان ایک ثقافتی پل کا کردار ادا کرے گی جس کے ذریعے دونوں ممالک ثقافتی و روحانی طور پر ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔‘‘
وِنگ چھون سیکھنے والے کچھ کھلاڑیوں کے نزدیک اُن کا چین جا کر مقابلوں میں حصہ لینا اس بات کا موقع ہے کہ وہ اپنے شوق کو اس فن کے مرکز میں جا کر آزمائیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (روسی): خالد علییف، وِنگ چھون کا آذربائیجانی کھلاڑی
’’چین میں منعقدہ سال 2026 کا بین الاقوامی وِنگ چھون مقابلہ میرا پہلا بین الاقوامی مقابلہ تھا۔ میں نے ’ تاؤلو‘ کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں اس سے بھی بڑی کامیابیاں حاصل کروں گا۔میں نے وِنگ چھون کو اس لئے منتخب کیا کیونکہ میں بچپن سے ہی چینی مارشل آرٹس کو پسند کرتا ہوں۔ مجھے ہمیشہ سے ان میں دلچسپی رہی ہے۔ وِنگ چھون صرف ایک مارشل آرٹ نہیں، بلکہ اس کی ایک بھرپور تاریخ اور گہرا فلسفہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں وِنگ چھون کی مشق کرتے ہوئے واقعی لطف محسوس کرتا ہوں۔‘‘
دوسروں کے لئے وِنگ چھون ایک طویل مدتی وابستگی بن چکا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (روسی): خدیجہ حبیب، وِنگ چھون کی آذربائیجانی کھلاڑی
’’میں نے آٹھ برس قبل اس کھیل کی مشق شروع کی تھی۔ ابتدا میں یہ میرے والدین کا اچانک کیا گیا ایک فیصلہ تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ میں اپنی حفاظت کرنا سیکھوں۔ لیکن بعد میں مجھے احساس ہوا کہ میں وِنگ چھون کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا اور خود کو اس کھیل کے لئے مکمل طور پر وقف کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
باکو کے مقامی کلب سے چین کے بین الاقوامی مقابلوں تک وِنگ چھون آذربائیجان کے کھلاڑیوں کو چینی مارشل آرٹس اور اس کے پسِ پردہ ثقافت سے قریب کر رہا ہے۔
باکو سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


