کراچی (لارڈ میڈیا): سندھ ہائیکورٹ نے ولیکا اسپتال میں زیر علاج بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی تحقیقات کے لئے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے کہا کہ کمیٹی میں گریڈ 20 کے دو افسران شامل ہوں جو اسپتال یا تفتیش سے براہ راست منسلک نہ ہوں۔ کمیٹی زیر علاج مریضوں کی تفصیلات اور ایچ آئی وی کی منتقلی کے شواہد کا جائزہ لے گی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ کمیٹی تحقیقات کرے گی کہ آیا ڈسپوزایبل سرنج یا طبی سامان دوبارہ استعمال ہوا یا نہیں۔ کمیٹی کو اسپتال میں آٹو لاک سرنجوں کی خریداری، اسٹوریج اور استعمال کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کا بھی حکم دیا گیا۔
کمیٹی طبی، نرسنگ، تکنیکی اور انتظامی افسران کی ذمہ داریوں کا تعین کرے گی اور ڈسپوزایبل سرنجز ایکٹ یا دیگر قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمے داروں کا تعین کرے گی۔ کمیٹی کو ریکارڈ، رپورٹس اور سی سی ٹی وی فوٹیج تک رسائی کا اختیار ہوگا اور اسے دو ماہ میں رپورٹ عدالت میں پیش کرنی ہوگی۔
عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ کو ہدایت کی کہ متاثرہ بچوں کو بلا تعطل طبی علاج فراہم کیا جائے اور تمام طبی اخراجات حکومت سندھ یا سوشل سکیورٹی ارادہ برداشت کرے گا۔ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے لئے قانون کے مطابق معاوضہ یا ریلیف کا تعین کیا جائے گا اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے گا۔


