ہومتازہ ترینامریکہ میں معاشی بے چینی نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس...

امریکہ میں معاشی بے چینی نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کا توازن بدل سکتی ہے

واشنگٹن (شِنہوا) امریکی شہری ملکی معیشت کے حوالے سے بے چین اور پریشان ہیں اور ان میں یہ تشویش نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ، ایوان نمائندگان یا دونوں میں اقتدار کا توازن بدلنے کا باعث بن سکتی ہے۔

ضروریات زندگی کے اخراجات میں اضافہ امریکیوں کی سب سے پہلی شکایت ہے کیونکہ خوراک اور چھت کے خرچے اجرتوں سے آگے نکل چکے ہیں اور ان کے کووڈ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ذاتی گھر کا روایتی امریکی خواب بھی روز بروز پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

یہ صورتحال کووڈ-19 کی عالمی وبا اور 2020 میں ملک گیر احتجاج کے سالوں بعد پیدا ہو رہی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں امیر امریکیوں نے شہر چھوڑ کر نقل مکانی کی اور اس وجہ سے ملک بھر کے مضافاتی علاقوں میں بھی مکانوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔

نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں برسر اقتدار جماعت یعنی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ووٹروں کی ناراضگی کا نشانہ بننے کا خدشہ ہے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو ڈیرل ویسٹ نے شِنہوا کو بتایا کہ اس وقت ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کسی کی بھی جیت کا امکان موجود ہے۔

ویسٹ نے کہا کہ بڑھتی قیمتوں اور ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی افراتفری کے سبب ووٹروں کا مزاج تلخ ہے۔ ریپبلکنز کو ان مسائل سے نمٹنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بیشتر جی او پی قانون سازوں نے گزشتہ سال کے دوران صدر ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

ویسٹ نے مزید کہا کہ ان کی غیر مقبولیت نومبر کے انتخابات میں ریپبلکنز کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔

دیگر ماہرین نے بھی کہا کہ معاشی بے چینی عام طور پر برسر اقتدار پارٹی کے لئے اچھے نتائج نہیں لاتی۔ تاریخی طور پر جب ووٹر وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے جاتے ہیں تو وہ اقتدار میں موجود جماعت کو سزا دینے کا رجحان رکھتے ہیں۔

شمال مشرقی ریاست نیو ہیمپشائر کے سینٹ انسلم کالج میں سیاسیات کے پروفیسر کرسٹوفر گالڈیری نے شِنہوا کو بتایا کہ معاشی بے چینی بالعموم برسر اقتدار پارٹی کے لئے بری خبر ہوتی ہے۔ جب لوگ بلوں کی ادائیگی، پٹرول خریدنے یا دسترخوان پر کھانا سجانے کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں تو وہ حکومت میں موجود لوگوں کو ہی قصوروار ٹھہراتے ہیں۔

گالڈیری نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کانگریس میں ریپبلکنز کا کنٹرول ہونے کی وجہ سے ووٹر اپنے تمام خدشات اور غصے کا نشانہ انہی کو بنائیں گے۔

پیر کے روز جاری ہونے والے روئٹرز/اپسوس پول کے مطابق سروے کا جواب دینے والے تقریباً 37 فیصد رجسٹرڈ امریکی ووٹروں نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس امریکی معیشت کے لئے بہتر حکمت عملی ہے جبکہ 36 فیصد نے ریپبلکن پارٹی کا انتخاب کیا۔ یہ تقریباً ایک دہائی میں پہلا موقع ہے کہ امریکی ووٹروں نے ڈیموکریٹس کو معیشت کا بہتر نگران سمجھا ہے۔

گالڈیری کا خیال ہے کہ ایوان نمائندگان کا کنٹرول بدلنا ممکن ہے، اگرچہ سینیٹ کے بارے میں پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں