ہومتازہ ترینمذاکرات میں پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا معاہدہ...

مذاکرات میں پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا معاہدہ ممکن نظر آنے لگا

واشنگٹن/تہران (شِنہوا) واشنگٹن، تہران اور علاقائی ثالثوں کے حکام کی جاری سفارتی کوششوں میں پیش رفت کے اشارے ملنے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا معاہدہ تیزی سے ممکن نظر آ رہا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ چند دنوں کے اندر معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ بیسنٹ نے سی این بی سی کو بتایا کہ میرا خیال ہے کہ آبنائے کو کھولنے اور اس تنازع میں مزید معمول کے حالات کی طرف بڑھنے کے لئے آج یا کل معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔

منگل ہی کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ’’بہت اچھی بات چیت‘‘ کر رہا ہے، جبکہ خبردار بھی کیا کہ اگر آبنائے کو ’’بہت جلد‘‘ نہ کھولا گیا تو تہران کو ’’بہت سخت نقصان‘‘ پہنچایا جائے گا۔

ایک روز قبل ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ’’فی الوقت جاری‘‘ قرار دیا اور اسے معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے ایران کا ’’آخری موقع‘‘ کہا تھا۔

تاہم تہران نے امریکی موقف رد کر دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی طے ہیں، انہوں نے زور دیا کہ صرف عمان کے ساتھ بات چیت آبنائے کے انتظام پر ہو رہی ہے۔

ایران کے دارالحکومت تہران کی سڑک پر ایک خاتون پیدل جا رہی ہیں۔(شِنہوا)

بقائی نے منگل کو ان مذاکرات کو تکنیکی اور سیاسی دونوں سطح پر ’’مثبت‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ایران اس اہم آبی گزر گاہ سے مستقبل میں جہازوں کی آمد و رفت سنبھالنے کے لئے عمان کے ساتھ طریقہ کار وضع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے سرکاری ٹی وی آئی آر آئی بی کو بتایا کہ کسی بھی نئے راستے میں ایران اور عمان دونوں کے خودمختار حقوق اور قومی سلامتی کا تحفظ ہونا چاہیے۔ مذاکرات ختم ہونے کے بعد حتمی انتظامات کا اعلان کیا جائے گا۔

سرکاری پریس ٹی وی نے بھی ایک سینئر ایرانی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی نیا راستہ فعال ہو گا موجودہ شمالی اور جنوبی راستوں کی جگہ لے لے گا۔

اہلکار نے اس اقدام کو دفاعی اور کسی بھی خودمختار ریاست کے اپنی علاقائی سمندری حدود کو بیرونی خطرات سے بچانے کے حقوق کے عین مطابق قرار دیا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز کہا کہ امریکہ، عمان اور ایران کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات میں شامل ہے جن کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے آمد و رفت بڑھانا ہے۔

قطر نے بھی منگل کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور متوقع معاہدے کے مسودے کا دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل تبادلہ ہو رہا ہے۔

قطری وزیراعظم کے مشیر اور وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ بات چیت بہت آگے کے مراحل تک پہنچ چکی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں