ہائی یانگ، شان ڈونگ (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ کے ساحل کے قریب سمندر سے بدھ کے روز داغے گئے ایک کیریئر راکٹ نے 2 ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹس کامیابی سے مدار میں پہنچا دیئے، جن سے چین میں انتہائی درست مشاہدے اور دنیا بھر میں خشکی و سمندر کی بڑے پیمانے پر نگرانی میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
سمارٹ ڈریگن-3 (ایس ڈی-3) کیریئر راکٹ نے بیجنگ وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 38 منٹ پر ہائی یانگ شہر کے قریب سمندر سے پرواز کی اور اورینٹل سمارٹ آئی (او ایس ای) ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹس 01 اور 02 کو کامیابی سے اپنے مقررہ مدار میں پہنچا دیا۔ اس سمندری مشن کو تائی یوآن سیٹلائٹ لانچ سنٹر نے انجام دیا۔
یہ دونوں سیٹلائٹس نہ صرف تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ اپنے مشاہدات کی تشریح بھی کر سکتے ہیں۔
روایتی آپٹیکل تصویربرداری کے برعکس ہائپر سپیکٹرل مشاہدہ تصویر کے ہر پکسل کا تفصیلی طیفی ریکارڈ محفوظ کرتا ہے۔ یہ "طیفی فنگر پرنٹس” مختلف مواد میں فرق کرنے اور ان کی خصوصیات جانچنے میں مدد دیتے ہیں، جن میں نباتات میں کلوروفل اور نمی، پانی کا معیار، مٹی میں نامیاتی مادہ اور معدنی ساخت شامل ہیں۔
سیٹلائٹس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی آن بورڈ کمپیوٹنگ ماڈیولز بھی نصب ہیں، جن کی کمپیوٹنگ صلاحیت 4 ہزار کھرب آپریشنز فی سیکنڈ تک ہے۔
یہ ماڈیولز تمام خام تصاویر زمین پر بھیجنے کے بجائے مدار ہی میں غیر معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی، زمینی خصوصیات کی شناخت، ذہین کمپریشن اور فیچر اخذ کرنے جیسے عمل انجام دینے کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔ اس سے زمین پر منتقل کئے جانے والے ڈیٹا کی مقدار کم ہوگی اور قابل استعمال معلومات کی فراہمی کا وقت کئی دنوں سے کم ہو کر چند منٹ رہ جائے گا۔
عملی خدمات شروع ہونے کے بعد یہ دونوں سیٹلائٹس پہلے سے مدار میں موجود ایک علیحدہ اعلیٰ معیار کے سیٹلائٹ کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیں گے، جو وسیع رقبے کے سروے اور تفصیلی مشاہدات، دونوں صلاحیتیں فراہم کرے گا۔


