تہران (لارڈ میڈیا) ایران کے سابق سپریم لیڈر کے اعلیٰ فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران نے یوکرین کے تین مقامات پر حملے کی مکمل تیاری کر لی تھی، لیکن کیف کی جانب سے مبینہ معذرت کے بعد یہ منصوبہ منسوخ کر دیا گیا۔ انہوں نے یہ بیان ایرانی سرکاری ٹی وی کو انٹرویو کے دوران دیا۔
محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مجوزہ حملوں کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں، لیکن بعد میں آپریشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے یوکرین کی معذرت کی نوعیت یا تفصیلات بیان نہیں کیں۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی متبادل بحری راستے کو قبول نہیں کرے گا اور کسی بھی غیر قانونی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ حالیہ ایران۔امریکا کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی فوجی منصوبوں کو ناکام بنایا۔ ان دعوؤں کے حق میں کوئی آزاد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران نے 25 جولائی کو یوکرین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کا ایک عملہ رکن ہلاک ہو گیا تھا۔ یوکرین نے ان الزامات پر کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔


