ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکمصنوعی ذہانت نے چین اور آسیان کے درمیان تعلیمی تعاون میں وسعت...

مصنوعی ذہانت نے چین اور آسیان کے درمیان تعلیمی تعاون میں وسعت پیدا کر دی

گوئی یانگ (شِنہوا) 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے ایک تھائی نوجوان وورا وٹ بون کیٹ کی چین میں تین سال کی تعلیمی تربیت نے انہیں مصنوعی ذہانت کا ایک ماہر بنانے سمیت ان کے پیشہ ورانہ مستقبل کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

تھائی لینڈ میں انڈرگریجویٹ کی سطح پر کمیونیکیشن انجینئرنگ پڑھنے کی وجہ سے ان کا مصنوعی ذہانت سے پہلے کوئی واسطہ نہیں تھا تاہم چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو کی گوئی ژو یونیورسٹی میں تین سالہ پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے بعد انہوں نے ایک نوآموز سے مصنوعی ذہانت کے ایک ماہر پیشہ ور بننے تک شاندار ترقی کی ہے۔

اب بون کیٹ دو سال سے زائد عرصے سے تھائی لینڈ کی ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی ٹرو کارپوریشن میں کام کر رہے ہیں جہاں وہ مصنوعات کی تیاری اور دیگر امور میں اپنے مصنوعی ذہانت کے علم کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چین کی تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت پر مبنی کثیر تحقیقی مقالے اور جدید آلات سے لیس لیبارٹریز نے انہیں سیکھنے کے لئے ایک بہترین ماحول فراہم کیا۔

گوئی ژو میں 28 جولائی سے 2 اگست تک منعقدہ 2026 چین-آسیان ایجوکیشن کوآپریشن ویک میں شرکاء نے اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت چین اور آسیان ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کا ایک نیا محرک بن رہی ہے۔

چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو کے شہر گوئی یانگ میں چین-آسیان ایجوکیشن کوآپریشن ویک 2026 کی افتتاحی تقریب کا منظر۔ (شِنہوا)

اس تقریب میں پورے خطے سے تعلیمی شعبوں کے حکام، یونیورسٹیوں کے سربراہان اور ماہرین نے شرکت کی۔

انڈونیشیا کی وزارت اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی کے قائم مقام سیکرٹری جنرل بدری منیر سوکوچو نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ انڈونیشیا اعلیٰ تعلیم کے نصاب میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے اور صنعت و تعلیم کے باہمی تعاون کو فروغ دینے میں چین کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

انہوں نے روایتی ادویات اور نئے مواد سمیت مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے مشترکہ اقدامات کا خاکہ بھی پیش کیا۔

لاؤس کی تعلیم و کھیل کی نائب وزیر داراوون کیٹی فان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تعلیم اور کام کی جگہ کو بدل رہی ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے طلبہ کو ڈیجیٹل معلومات، تنقیدی سوچ، عملی مہارتوں، مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اصولوں اور انسان پر مبنی ایسی مہارتوں سے آراستہ کریں جن کی مصنوعی ذہانت آسانی سے نقل نہیں کر سکتی۔

چینی یونیورسٹیاں آسیان کی منڈیوں کے لئے بین الاقوامی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے مخصوص تربیتی پروگرام متعارف کرا رہی ہیں۔

مثال کے طور پر شان ڈونگ یونیورسٹی نے ویتنامی یونیورسٹیوں اور چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ میں سمارٹ ہارڈ ویئر بنانے والے ادارے گوئرٹیک کے ساتھ مل کر ذہین پیداواری نظام پر مرکوز ایک خاص تربیتی پروگرام شروع کیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت 20 ویتنامی طلبہ کا پہلا بیچ ویتنام میں گوئرٹیک کی شاخ میں شامل ہونے سے پہلے شان ڈونگ یونیورسٹی میں چینی زبان اور مصنوعی ذہانت سے متعلقہ مضامین پر مبنی چار ماہ کا کورس مکمل کر چکا ہے۔

شنگھائی یونیورسٹی کی نائب سربراہ یو شوے می کے مطابق یونیورسٹی نے اپنے فلم، فائن آرٹس اور میوزک کے شعبوں میں آرٹ پلس اے آئی ٹیکنالوجی کا تعلیمی ماڈل متعارف کرایا ہے جس نے آسیان ممالک کے متعدد طلبہ کی توجہ حاصل کی ہے۔

اس کے علاوہ یہ تھائی لینڈ میں واقع اپنے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں چینی زبان کی تدریسی کوششیں آسان بنانے کے لئے مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم بھی چلا رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں گوئی ژو نے آسیان خطے اور بیلٹ اینڈ روڈ کے شراکت دار ممالک کی 90 سے زائد یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ تبادلے اور تعاون کے تعلقات قائم کئے اور آسیان ممالک میں تعلیمی منصوبوں کے لئے 17 تربیتی مراکز قائم کئے جن میں اس خطے سے 20 ہزار 900 طلبہ نے تعلیم حاصل کی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں