تہران (شِنہوا) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو امریکہ کو اس بات کا پابند بنانا ہوگا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی امن سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر کاربند رہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اتفاق رائے موجود ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ مفاہمتی یادداشت مستقبل میں ایران کے خارجہ تعلقات کا مرکزی محور ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ دشمن کو اس معاہدے پر عمل کرنے کا پابند بنائیں جس پر اس نے دستخط کئے ہیں۔ اس مفاہمتی یادداشت سے ملک، خطے اور ہمارے اتحادیوں کی سلامتی مزید بہتر ہوگی۔
18 جون کو ایران اور امریکہ نے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے تھے جس کے تحت دونوں ممالک نے 60 روز کے اندر مذاکرات کرکے ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث ان مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
گزشتہ ماہ امریکی فوج نے ایران کے مختلف اہداف پر کئی مرحلوں میں حملے کئے ۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئیں اور ان کا مقصد تجارتی بحری جہازوں کو خطرہ پہنچانے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔


