ہومتازہ تریناسلام آباد میں 26 ہزار سے زائد بچے اسکول سے باہر ہونے...

اسلام آباد میں 26 ہزار سے زائد بچے اسکول سے باہر ہونے کا انکشاف

اسلام آباد (لارڈ میڈیا): قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ اسلام آباد میں 26 ہزار 834 بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اجلاس کی صدارت چیئرپرسن مہتاب اکبر راشدی نے کی، جس میں وزارت تعلیم کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان میں 14 ہزار سے زائد بچے اور 12 ہزار بچیاں شامل ہیں۔

حکام کے مطابق اب تک 8 ہزار 714 بچوں کا مختلف تعلیمی پروگراموں میں اندراج کیا جا چکا ہے اور وفاق کے لیے جامع ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے۔ تمام یونین کونسلز میں ڈور ٹو ڈور سروے کے ذریعے بچوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

بریفنگ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ نجی اسکولوں میں 10 فیصد بچوں کو مفت تعلیم دینے کی شرط پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ 36 دیہی یونین کونسلز میں این جی اوز کے تعاون سے سروے مکمل کیا گیا، جس سے اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی ممکن ہوئی۔

وزارتِ تعلیم نے بتایا کہ جھگی بستیوں کے بچوں کے لیے اسلام آباد میں تین ٹینٹ اسکول قائم کیے گئے ہیں اور تعلیم پہنچانے کے متبادل طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

کمیٹی رکن انجم عقیل نے سوال اٹھایا کہ جب جھگی آبادی ہر چھ ماہ بعد جگہ تبدیل کرتی ہے تو درست ڈیٹا کیسے اکٹھا کیا جائے گا۔ ڈاکٹر شازیہ سومرو نے وزارتِ تعلیم کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست دوسروں کے بچوں کی تعلیم کی بات کرتی ہے لیکن اپنے بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

چیئرپرسن مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ والدین کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور وزارتِ تعلیم کو اپنے بجٹ کا بڑا حصہ اسی مقصد کے لیے مختص کرنا چاہیے تاکہ ہر بچے کو تعلیم کا حق مل سکے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں