واشنگٹن (لارڈ میڈیا) سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات کی۔ امریکی میڈیا کے مطابق، اس ملاقات کا مقصد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی قیادت تک پہنچانا تھا۔
سعودی وزیر دفاع نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات میں ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کی خواہش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نواز عراقی ملیشیاؤں نے بنیادی ڈھانچے اور توانائی تنصیبات پر حملے کیے، جس کی وجہ سے سعودی عرب نے جواب دیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے وہی جہاز گزریں گے جنہیں ہم اجازت دیں گے۔ سعودی وزیر دفاع نے کہا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور عراق میں کی گئی کارروائی کا مقصد کشیدگی بڑھانا نہیں ہے۔
امریکی میڈیا کے ذرائع کے مطابق، سعودی عرب کا عراق پر حملوں کا مقصد حوثیوں کو پیغام دینا تھا۔ سعودی وزیر دفاع نے امریکی نائب صدر کو بتایا کہ سعودی عرب حوثیوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور فی الحال امریکا کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔


