اسلام آباد (لارڈ میڈیا) پاکستان اکنامک سمٹ 2026 میں معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل پر زور دیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ اس سمٹ میں ماہرین معیشت، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سمیت مختلف شعبہ جات کے افراد شریک ہوئے۔
سمٹ کے دوسرے دن ملکی معیشت، سرمایہ کاری، برآمدات اور پائیدار اقتصادی ترقی کے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ شرکا نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے، مگر پائیدار ترقی کے لیے اصلاحات کی رفتار تیز کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے پالیسیوں میں تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔
مقررین نے نجی شعبے کو معیشت میں کلیدی کردار دینے، ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار کو بڑھانے اور معیشت کی دستاویزیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ صنعت، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں کو قومی ترقی کے ستون کے طور پر مضبوط کرنے کی سفارش کی گئی۔
شرکا نے نوجوانوں کو ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور ڈیجیٹل معیشت کو ترقی دینے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع وسیع ہیں، جن سے عالمی سرمایہ کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ایس ایم تنویر نے حکومت کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے کوششیں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے قرضوں پر انحصار کو تشویش ناک قرار دیا اور ٹیکس معاملات میں سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ایس ایم تنویر نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں کاروباری برادری کے لیے نشستیں مختص کرنے کی تجویز دی، اور کہا کہ کاروباری ماحول سازگار بنانے سے پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔
مقررین نے اتفاق کیا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات، پالیسیوں کا تسلسل، نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری اور برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہیں۔


