لاہور (لارڈ میڈیا): لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے پی ٹو پی لین دین کے مقدمے میں ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے قرار دیا کہ آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ورچوئل اثاثوں کا لین دین خود بخود دھوکہ دہی یا فراڈ نہیں کہلاتا۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے حماد علی، اسد امجد اور محمد اطہر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جن پر پی ٹو پی مرچنٹس کے طور پر کام کرتے ہوئے شکایت کنندہ سے رقم وصول کرنے کا الزام تھا۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ شکایت کنندہ محمد فرحان نے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی تھی اور نقصانات کے باعث بڑی رقم منتقل کی۔ اس کے اکاؤنٹ منجمد ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ورچوئل اثاثوں تک رسائی نہ پاسکا۔
جسٹس شیخ نے فیصلے میں کہا کہ ورچوئل اثاثے قانونی زر مبادلہ نہیں لیکن انہیں غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے درخواست گزاروں کی ضمانت کنفرم کی۔


