شہر (لارڈ میڈیا): گردے انسانی جسم کے خاموش محافظ ہیں جو خون کو صاف کرنے، فاضل مادے خارج کرنے اور توازن برقرار رکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔ تاہم جدید طرزِ زندگی میں استعمال ہونے والے چند مشروبات گردوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ان کا حد سے زیادہ استعمال گردوں کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات میں تھکن، ٹانگوں میں سوجن، پیشاب کی مقدار میں تبدیلی اور بلڈ پریشر میں اضافہ شامل ہو سکتے ہیں، اس لیے مشروبات کے انتخاب میں احتیاط ضروری ہے۔
سعودی نشریاتی ادارے العربیہ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار ڈیلی مرر میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ماہرینِ صحت اور نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن نے ان 5 مشروبات کی نشاندہی کی ہے جو گردوں کے خطرناک امراض میں مبتلا کر سکتے ہیں۔
کاربونیٹڈ اور سافٹ ڈرنکس گردوں کے لیے نقصان دہ ہیں کیونکہ ان میں موجود شکر اور کیمیکل اجزا موٹاپے اور ذیابیطس کے خطرے کے ساتھ گردوں کے فلٹریشن سسٹم کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
انرجی ڈرنکس فوری توانائی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں لیکن ان میں کیفین اور مصنوعی اجزا گردوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر نوجوانوں میں ان کا بڑھتا ہوا استعمال تشویشناک ہے۔
الکحل کا زیادہ استعمال گردوں کو متاثر کرتا ہے کیونکہ یہ جسم میں پانی کی کمی پیدا کرتی ہے، جس سے گردوں کو خون صاف کرنے میں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
سپورٹس ڈرنکس میں سوڈیم اور مصنوعی رنگوں کی زیادہ مقدار ہوتی ہے جو گردوں کے فلٹریشن سسٹم کو متاثر کر سکتی ہے۔
بازار میں ملنے والے پھلوں کے جوسز میں پوٹاشیم اور شکر کی زیادہ مقدار ہوتی ہے جو گردوں کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ نقصان دہ مشروبات سے پرہیز اور پانی کا مناسب استعمال گردوں کی صحت کے لیے بہترین ہے، تاہم پانی کی زیادتی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔


