اسلام آباد (لارڈ میڈیا) وزیراعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ متاثرین مجرم نہیں بلکہ مظلوم ہیں۔ انہوں نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اور دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ کے انسداد کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنی چاہئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ ایک بین الاقوامی جرم ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں شامل ہے۔ اس کا مقابلہ قومی اور عالمی سطح پر متحد، غیر متزلزل اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے سدباب کے لیے قانونی، سماجی اور انتظامی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ یہ جرم دیگر منظم جرائم جیسے غیر قانونی تارکین وطن اور منی لانڈرنگ سے جڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کی وجوہات کے تدارک کے لیے تمام قومی اداروں کا باہمی تعاون ضروری ہے۔ حکومت نے ایف آئی اے کے لیے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی روک تھام کے لیے خصوصی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔
وزیراعظم نے انسداد انسانی اسمگلنگ کے لیے صوبائی حکومتوں، مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون پر زور دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے ریاستی اقدامات کے علاوہ شہریوں کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر ایف آئی اے کی ہیلپ لائنز پر دی جائے۔
آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ متاثرین کو حکومتی اور سماجی تحفظ، ہمدردی، نفسیاتی معاونت اور معاشرتی بحالی کی ضرورت ہے۔ حکومت متاثرین کی امداد کے لیے کوشاں ہے تاکہ وہ باوقار زندگی گزار سکیں۔


