جکارتہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (یو این آئی ڈی او) کے ایک عہدیدار کے مطابق چین اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے درمیان باہمی تکمیل ساختی نوعیت کی ہے۔
انڈونیشیا، مشرقی تیمور اور فلپائن کے لیے اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے کے نمائندے مارکو کامیا نے یو این آئی ڈی او اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے مشترکہ زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر شِنہوا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چین کا منفرد کردار سب سے پہلے ایک بڑی منڈی کی حیثیت سے سامنے آتا ہے، کیونکہ اس کی طلب آسیان کے پیداواری اداروں کو زیادہ قدر کی حامل مصنوعات اور شعبوں کی جانب لے جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری اہم حیثیت ایک سرمایہ کار کے طور پر چین کی ہے، جو صرف کارخانے منتقل نہیں کرتا بلکہ تحقیق و ترقی، مہارتوں اور صنعتی صلاحیتوں کو ایک ہی مقام پر فروغ دے کر مقامی استعداد میں بھی مسلسل اضافہ کر سکتا ہے۔
مارکو کامیا نے مزید کہا کہ ماحول دوست صنعت کاری، برقی گاڑیوں کے چارجنگ نظام اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں ایک اہم شراکت دار کی حیثیت سے چین پورے خطے میں معیارات کو ہم آہنگ کرنے اور اخراجات کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کے یہ خیالات اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے کی جانب سے جاری کردہ صنعتی ترقی رپورٹ 2026 کے نتائج سے ہم آہنگ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا غیر معمولی رفتار سے تبدیل ہو رہی ہے اور کئی بڑے عالمی رجحانات عالمی معیشت کی ساخت کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ یہ تبدیلیاں جہاں مختلف چیلنجز پیدا کر رہی ہیں، وہیں ترقی کے لیے بے مثال مواقع بھی فراہم کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں نئی صنعتی لہر کو تشکیل دینے والے پانچ بڑے تبدیلی ساز رجحانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں توانائی اور ماحول دوست منتقلی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا عروج، گلوبل ویلیو چینز کی ازسر نو تشکیل، آبادیاتی تبدیلیاں اور غذائی نظاموں کی تبدیلی شامل ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ترقی کا راستہ تبدیل کرنے کے لیے اب بھی دیر نہیں ہوئی اور اس وسیع تر تبدیلی کے مرکز میں صنعت کاری اور پیداواری شعبے کو رکھنا ضروری ہے۔
مارکو کامیا نے کہا کہ آسیان ممالک کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ سرمایہ یا ٹیکنالوجی کی کمی نہیں بلکہ نئی ٹیکنالوجی کو جذب کرنے اور مئوثر طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔


