بیجنگ (شِنہوا) چین میں 2030 تک نئی توانائی سے چلنے والے بھاری ٹرکوں کی تعداد 16 لاکھ سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے۔
وزارت ٹرانسپورٹ کے عہدیدار کائی توان جی نے بتایا کہ 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران نئی توانائی سے چلنے والے بھاری ٹرکوں کی فروخت تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 78.6 فیصد زیادہ ہے۔
انہوں نے اس "دھماکہ خیز نمو” کو پالیسی مراعات اور مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب اس شعبے میں تیزی سے قبولیت اور استعمال کا دور شروع ہو چکا ہے۔
اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لئے حکومت متعدد نئے اقدامات متعارف کرائے گی۔ اس ضمن میں ایک اہم ترجیح چارجنگ اور بیٹری تبدیل کرنے کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینا ہے۔ حکام مصروف مال بردار شاہراہوں، بڑے شہری علاقوں، بندرگاہوں، کانوں، کارخانوں اور لاجسٹکس پارکس میں بھاری برقی ٹرکوں کے لئے 3 ہزار سے زائد چارجنگ اور بیٹری سوئپنگ سٹیشنز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
مالی معاونت میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ پرانے تجارتی گاڑیوں کو ختم کرکے ان کی جگہ نئی گاڑیاں لانے کے لئے رواں سال 22 ارب یوآن ( تقریباً 3.24 ارب امریکی ڈالر) مالیت کے انتہائی طویل مدتی خصوصی سرکاری بانڈز سبسڈی کی مد میں مختص کئے گئے ہیں، جن میں ترجیح نئی توانائی سے چلنے والے بھاری ٹرکوں سے تبدیلی کو دی جائے گی۔
کائی نے مزید کہا کہ وزارت ٹرانسپورٹ آئندہ پانچ برسوں کے دوران نقل و حمل کے شعبے میں کم کاربن توانائی کے استعمال کو فروغ دینے، ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو مزید ماحول دوست بنانے اور آلودگی پر قابو پانے کی کوششوں میں تیزی لائے گی۔ یہ اقدامات ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ماحول دوست اور کم کاربن نظام کی جانب منتقل کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔


