بنوں (لارڈ میڈیا): سکیورٹی فورسز نے مفتی ظفر یاب کو فتنہ الخوارج کی سہولتکاری کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ مفتی ظفر یاب نے بتایا کہ انہوں نے جامع نظام العلوم بنوں سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کی اور المرکز اسلامی غوری والہ سے تخصص فی الفقہ کیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق مفتی ظفر یاب نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ ان کے خارجی کمانڈر حکمت روشان کے ساتھ روابط تھے، اور ریاستی اداروں کو ان کے ان رابطوں کا علم تھا جس کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا۔
مفتی ظفر یاب نے بتایا کہ حکمت روشان جہاد کے نام پر بھتہ خوری کے لیے غیر شرعی فتوے حاصل کرتا تھا اور مختلف افراد کو مالی فوائد اور عہدوں کی پیشکش کرتا تھا۔
گرفتار مفتی نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں اور کہا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ غیر اسلامی نظریات رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔


