ریاض (لارڈ میڈیا): یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف سمندری محاصرہ اور سعودی تیل کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد بحرِ احمر میں سعودی خام تیل کے دو بڑے ٹینکرز کو واپس لوٹنا پڑا ہے۔ حوثیوں نے جہاز رانی کی کمپنیوں کو خط کے ذریعے خبردار کیا تھا کہ سعودی تیل لے جانے والے جہازوں پر حملہ کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی واقعہ پیش آیا تو امریکہ اس سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔
اس تنازع کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جو 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
خطے میں جنگ کا دائرہ کار وسیع ہوگیا ہے، جہاں ایران، کویت، بحرین اور اردن میں امریکی عسکری اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق امریکی حملوں میں 50 عام شہری ہلاک اور 500 زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی دفاعی وزیر نے جنگی اخراجات کے بارے میں سینیٹ کو آگاہ کیا اور مزید فنڈز کی درخواست کی ہے۔
اس کشیدگی کے درمیان ایرانی وزیرِ داخلہ نے پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے اسلام آباد سے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔


