شہر (لارڈ میڈیا): انسٹاگرام پر ‘کمنٹ فار لنک’ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جس کے تحت صارفین سے مخصوص الفاظ کے ساتھ کمنٹ کرنے کی درخواست کی جاتی ہے تاکہ انہیں مطلوبہ معلومات یا لنک فراہم کیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف معلومات فراہم کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل مارکیٹنگ ماڈل ہے جو کریئیٹرز، برانڈز اور انسٹاگرام کے الگورتھم کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
انسٹاگرام پر کلک ایبل لنکس شامل نہ کیے جانے کی پابندی اس رجحان کی بنیادی وجہ ہے۔ کریئیٹرز خودکار سافٹ ویئر اور آٹومیشن ٹولز استعمال کر کے کمنٹ کرنے والے صارفین کو ڈائریکٹ میسج میں لنک بھیجتے ہیں، جس سے صارفین کو مواد تک رسائی ملتی ہے اور کریئیٹرز کو انگیجمنٹ کا فائدہ ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل مارکیٹنگ ماہرین کے مطابق، ہر کمنٹ انسٹاگرام کے لیے ایک اہم انگیجمنٹ سگنل تصور کیا جاتا ہے، جو پوسٹ کی رسائی میں اضافہ کر سکتا ہے۔ تاہم، عام صارفین کو یہ تاثر ہو سکتا ہے کہ کمنٹس سے براہ راست مالی فائدہ ہوتا ہے، لیکن ماہرین اس خیال کو درست نہیں سمجھتے۔
اکثر انفلوئنسر مارکیٹنگ مہمات میں کریئیٹرز کو مقررہ فیس دی جاتی ہے، جبکہ بعض ایفیلیئیٹ مارکیٹنگ یا ریونیو شیئرنگ ماڈل استعمال کرتے ہیں، جہاں کریئیٹرز کی آمدن صارف کے لنک پر کلک کرنے کے بعد کسی مخصوص عمل کی تکمیل پر منحصر ہوتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس حکمت عملی کا حد سے زیادہ استعمال صارفین میں اکتاہٹ پیدا کر سکتا ہے، اور اس کی افادیت کم ہو سکتی ہے۔ ‘کمنٹ فار لنک’ کا بڑھتا ہوا رجحان کریئیٹرز اور برانڈز کی انسٹاگرام کی تکنیکی حدود کے مطابق اپنی حکمت عملیاں تبدیل کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔


