اسلام آباد (لارڈ میڈیا): پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کے پیچیدہ مسئلے میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستان کا اس معاملے میں واحد مقصد امن اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
اعلیٰ سکیورٹی حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ اگر یہ جنگ نہ روکی جاتی تو اس کے سنگین نتائج ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ثالثی کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں اور دنیا کو آہستہ آہستہ اس کا ادراک ہو رہا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے ایران، سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ الگ الگ تعلقات ہیں اور اس نے مسلم امہ میں امن کی خواہش کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ 15 جون 2026 تک پاکستان نے 32092 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے ہیں، جن میں 2170 دہشتگردی کی کارروائیاں ہوئیں۔
سکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کا اثر و رسوخ ہے اور وہاں آزادی اظہار کی کمی ہے۔ آزاد کشمیر میں حقوق کی تحریک کے حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ بات چیت کو ترجیح دی ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ فوج میں 40 فیصد جوان کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا موقف واضح ہے۔


