چین (لارڈ میڈیا): سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ ایک انسان میں سؤر کے گردوں اور جگر کو ایک ساتھ ٹرانسپلانٹ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ چین کی گوانگشی میڈیکل یونیورسٹی کے فرسٹ ایفلیٹڈ ہاسپٹل میں کیا گیا، جہاں دماغی طور پر مردہ قرار دیے گئے ایک فرد میں سؤر کے جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے گردے اور جگر لگائے گئے۔
اس اہم پیشرفت میں ایک ساتھ مختلف اعضا انسانی جسم میں کامیابی کے ساتھ پیوند کیے گئے ہیں۔ اس تجربہ کے دوران مریض کے جسم میں دو گردے اور ایک جگر کی پیوندکاری کی گئی، جو پانچ دن تک کسی منفی جسمانی ردعمل کے بغیر جاری رہی۔
محققین نے بتایا کہ جگر نے بائیل بنانا شروع کیا جبکہ گردے پیشاب بناتے رہے اور خون کے بہاؤ کو مستحکم رکھا۔ اس کلینکل ٹرائل کا مقصد یہ جائزہ لینا تھا کہ سؤر کے جینیاتی طور پر تدوین کیے گئے متعدد اعضا انسانی جسم میں کام کر سکتے ہیں یا نہیں۔
سؤر کے اعضا میں مجموعی طور پر چھ تبدیلیاں کی گئیں اور تین انسانی جینز کا اضافہ کیا گیا جبکہ سؤر کے تین جینز کو نکالا گیا جن پر انسانی مدافعتی نظام ردعمل ظاہر کرتا ہے۔
اگرچہ یہ ٹرانسپلانٹ ایک سائنسی تحقیق کے لیے کیا گیا اور فی الحال یہ طویل المعیاد علاج نہیں، مگر ماہرین کے مطابق اس سے جانوروں کے اعضا کی انسانوں میں پیوندکاری کے حوالے سے اہم پیشرفت قرار دی جا سکتی ہے۔
پہلے بھی انسانی جسم میں سؤر کے دل اور دیگر اعضا کی پیوندکاری کے تجربات کیے گئے ہیں، مگر یہ پہلا موقع ہے جب گردے اور جگر ایک ساتھ ٹرانسپلانٹ کیے گئے ہیں۔


