دوحہ (لارڈ میڈیا): 2026 فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل امریکا کی ویزا پالیسیوں اور ایران کے خلاف جنگ نے ایرانی شائقین اور قومی ٹیم کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ امریکی ویزا پابندیوں کے باعث ایرانی شائقین کے لیے امریکا کا سفر تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے نے ایران سمیت چند ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا کے اجرا پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس سے ایرانی شائقین کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی شائقین کا کہنا ہے کہ ویزا مسائل کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے امریکا پہنچنا پہلے ہی پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے، جس کے لیے کئی ممالک کے راستے سفر کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے بھی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے ایرانی قومی ٹیم کی تیاری اور کھیلوں کی تنصیبات متاثر ہوئی ہیں۔
دوسری جانب دیگر ممالک کے شائقین بھی امریکا سفر کرنے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض شائقین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کو سیاست اور تنازعات سے الگ رہنا چاہیے، مگر موجودہ حالات میں ایسا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔
کینیا سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی اسپورٹس وکیل خیران نور کے مطابق ورلڈ کپ جیسے عالمی مقابلے اب صرف کھیل کا معاملہ نہیں رہے بلکہ عالمی سیاست اور ویزا پالیسیوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 2026 فیفا ورلڈ کپ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر منعقد کر رہے ہیں، جہاں 48 ٹیمیں شرکت کریں گی۔ تاہم ویزا پابندیوں، جنگی حالات اور سیکیورٹی خدشات نے منتظمین کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔


