پاکستان میں آئینی،سیاسی، جمہوری، اور معاشی حوالہ سے ایک نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے کہ صدر مملکت کا 5 جون کو طلب کردہ بجٹ اجلاس حکومت کو مجبوری و ناگزیری صورتحال میں مؤخر کرنا پڑا۔
بعض اوقات تاریخ خود کو دہراتی نہیں بلکہ نئے سوالات کے ساتھ دوبارہ سامنے آتی ہے۔ قومی اسمبلی کا 5 جون کا بجٹ اجلاس مؤخر ہونا اور اس کے ساتھ یہ اطلاعات سامنے آنا کہ حکومت بجٹ پیش کرنے سے قبل ایک اہم آئینی ترمیم منظور کرانا چاہتی ہے، ملک کے سیاسی و آئینی حلقوں میں نئی بحث کا آغاز کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حکومت کی خواہش ہے کہ بجٹ اجلاس سے پہلے ایک اہم آئینی ترمیم کو پارلیمان سے منظور کرایا جائے، جبکہ اپوزیشن سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بعض نکات پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدرِ مملکت اور پارلیمانی قیادت کے درمیان مشاورت کا عمل جاری ہے اور اسی تناظر میں بجٹ اجلاس کی تاریخ آگے بڑھائی گئی ہے۔ بقول فیض احمد فیض۔۔
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے۔
امید ہے کہ آپ ان کہی بھی سمجھ رہے ہوں گے اور اگر واقعی حکومت بجٹ سے قبل 28ویں آئینی ترمیم لانے کا ارادہ رکھتی ہے تو یہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی قدم ہوگا جس کے اثرات آئندہ کئی برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ترمیم لائی جا سکتی ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ قومی ترجیح کیا ہونی چاہیے یعنی معاشی استحکام یا محض آئینی ترمیم؟
پاکستان اس وقت شدید معاشی دباؤ، بڑھتے ہوئے قرضوں، مہنگائی، توانائی بحران اور سرمایہ کاری کے چیلنجز سے دوچار ہے۔ یہ بجٹ بھی ہر سال کی طرح حکومت کی معاشی ترجیحات اور عوامی توقعات کا آئینہ دار ہوگا۔ ایسے میں اگر بجٹ سے پہلے تمام سیاسی اور پارلیمانی توانائیاں ایک آئینی ترمیم پر مرکوز ہو جائیں تو یہ تاثر پیدا ہونا فطری ہے کہ معاشی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف یہ ہو سکتا ہے کہ بعض آئینی یا انتظامی اصلاحات ایسی نوعیت کی ہوتی ہیں جن کے بغیر مؤثر حکمرانی ممکن نہیں رہتی۔ اگر مجوزہ ترمیم ریاستی اداروں کی کارکردگی، عدالتی نظام، وفاقی ڈھانچے یا انتظامی اصلاحات سے متعلق ہے تو حکومت کے نزدیک اسے بجٹ سے پہلے منظور کرانا ضروری تصور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم جمہوری نظام میں کسی بھی آئینی ترمیم کی اصل طاقت اس کی قانونی حیثیت سے زیادہ اس کی سیاسی قبولیت میں ہوتی ہے۔
پاکستان کی آئینی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ وہ ترامیم زیادہ پائیدار ثابت ہوئیں جن کے پیچھے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے موجود تھا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم اس کی نمایاں مثال ہے جس نے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی نئی تقسیم متعارف کرائی اور اسے تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ اس کے برعکس وہ آئینی تبدیلیاں جو محدود سیاسی حمایت یا وقتی ضرورتوں کے تحت کی گئیں، بعد ازاں تنازعات کا سبب بنتی رہیں۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ اگر بجٹ اجلاس کو صرف اس لیے مؤخر کیا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت مکمل ہو سکے تو اسے جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس تاخیر سے معاشی فیصلوں، ترقیاتی منصوبوں، مالیاتی نظم و ضبط یا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاملات متاثر ہوتے ہیں تو اس کے معاشی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے یہ ایک امتحان ہے۔ حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ مجوزہ آئینی ترمیم قومی مفاد میں ہے، نہ کہ محض سیاسی ضرورت۔ اسی طرح اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ مخالفت برائے مخالفت کے بجائے آئینی اور قومی مفاد کے تناظر میں اپنا کردار ادا کرے۔
جمہوریت کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ اختلاف کو تصادم میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ اگر بجٹ سے پہلے 28ویں آئینی ترمیم پر اتفاقِ رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ پارلیمانی نظام کی کامیابی ہوگی۔ لیکن اگر سیاسی کشمکش معاشی ایجنڈے کو یرغمال بنا لیتی ہے تو اس کا نقصان نہ حکومت کا ہوگا، نہ اپوزیشن کا، بلکہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ میریے نقطہ نظر سے پاکستان کو اس وقت آئینی استحکام اور معاشی استحکام دونوں کی اشد ضرورت ہے۔ دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ان دونوں اہداف کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرنے کے بجائے باہمی تکمیل کے اصول پر آگے بڑھایا جائے۔ کیونکہ مضبوط معیشت کے بغیر مضبوط جمہوریت مشکل ہے، اور مضبوط جمہوری اداروں کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔ لہذا اس صورتحال میں
آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ بجٹ سے پہلے ہونے والی سیاسی سرگرمیاں قومی مفاہمت کی طرف لے جاتی ہیں یا ایک نئے آئینی و سیاسی مباحثے کی بنیاد بنتی ہیں۔


