ایران پر امریکا کی جانب سے زبردستی جنگ ملسط کیے جانے کے بعداب مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اس نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط اندازہ، ایک غیر ذمہ دارانہ بیان یا ایک محدود عسکری کارروائی پورے خطے کو ایسی آگ میں دھکیل سکتی ہے جس کے شعلے صرف خلیج کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، بین الاقوامی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سلامتی کے پورے ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ متضاد بیانات نے اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران بدستور اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے، اور یہی بحران کسی بھی بامعنی سفارتی پیش رفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور تہران کے پاس ایک "آخری موقع” موجود ہے، بظاہر سفارتی پیش رفت کا تاثر دیتا ہے، مگر دوسری جانب ایران کی جانب سے ایسے تمام دعوؤں کی دوٹوک تردید اس امر کی غمازی ہے کہ حقیقت شاید بیانات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ سفارت کاری میں اختلافِ رائے معمول کی بات ہوتی ہے، لیکن جب دونوں فریق مذاکرات کے وجود ہی پر متفق نہ ہوں تو یہ محض سفارتی اختلاف نہیں بلکہ اعتماد کے مکمل انہدام کی علامت بن جاتا ہے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیانات کا تضاد سامنے آیا ہو۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہونے والے تجربات، معاہدوں کی منسوخی، پابندیوں کی واپسی، یکطرفہ فیصلوں اور بدلتی ہوئی امریکی حکمت عملی نے ایران کے اندر یہ تاثر گہرا کر دیا ہے کہ صرف زبانی یقین دہانیاں کسی دیرپا معاہدے کی بنیاد نہیں بن سکتیں۔ ریاستیں جذبات پر نہیں بلکہ مستقل پالیسیوں اور قابلِ عمل ضمانتوں پر اعتماد کرتی ہیں، اور جب پالیسیوں میں تسلسل باقی نہ رہے تو اعتماد بھی رفتہ رفتہ تحلیل ہو جاتا ہے۔اسی دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں نے ایک بار پھر پوری دنیا کو یہ احساس دلایا ہے کہ خلیج صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔
دنیا کی تیل اور قدرتی گیس کی ایک بڑی مقدار اسی سمندری گزرگاہ سے گزرتی ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی معمولی کشیدگی بھی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، انشورنس اخراجات میں غیر معمولی اضافہ، بحری تجارت میں رکاوٹ اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی کو جنم دیتی ہے۔ اس لیے خلیج کا استحکام صرف علاقائی ضرورت نہیں بلکہ عالمی اقتصادی سلامتی کا بنیادی تقاضا بھی ہے۔ایران امریکا جنگ اور اس سے پیدا کشیدگی کے باعٹ اصل سوال یہ نہیں کہ مذاکرات کب شروع ہوں گے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اب اعتماد دوبارہ کیسے بحال ہوگا۔ اعتماد کسی ایک ملاقات، ایک اعلامیے یا ایک پریس کانفرنس سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مسلسل عملی اقدامات، وعدوں کی پاسداری، معاہدوں پر عمل درآمد اور باہمی احترام ناگزیر ہوتے ہیں۔ جب تک دونوں ممالک ایک دوسرے کے خدشات کو حقیقت پسندانہ انداز میں تسلیم نہیں کریں گے، اس وقت تک کسی بھی نئے معاہدے کی کامیابی مشکوک ہی رہے گی۔
تاہم خلیج کا مستقبل صرف امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کا اسیر نہیں ہونا چاہیے۔ اس خطے کے اصل وارث خود مسلم اور عرب ممالک ہیں، جنہیں یہ احساس کرنا ہوگا کہ ان کے اپنے اختلافات بیرونی طاقتوں کے لیے مداخلت کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ جب داخلی وحدت کمزور ہو جائے تو خارجی قوتیں ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق خلا کو پُر کرتی ہیں۔ یہی وہ تاریخی سبق ہے جسے مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے بار بار دہرا رہا ہے۔
آج وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ سعودی عرب، ایران، پاکستان، ترکیہ، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان، عراق، کویت، اردن، بحرین اور دیگر مسلم ممالک ایک ایسے مؤثر علاقائی مکالمے کا آغاز کریں جو وقتی سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو۔ ایک ایسا مشترکہ سلامتی کا نظام تشکیل دیا جائے جس میں ہر ریاست کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، اقتصادی مفادات اور اجتماعی امن کو یکساں اہمیت حاصل ہو۔ اختلافات کو جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر حل کیا جائے، کیونکہ جنگیں سرحدیں بدل سکتی ہیں مگر دلوں میں اعتماد پیدا نہیں کر سکتیں۔
اسی تناظر میں ایک اہم نقطۂ نظر یہ بھی سامنے آتا ہے کہ مسلم اور عرب ممالک کو اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ ان کی سرزمین، فضائی حدود یا عسکری تنصیبات کسی بھی مسلم ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہوں۔ اس تجویز کے حامی اسے امتِ مسلمہ کے اندر اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض ریاستیں اپنی موجودہ دفاعی شراکت داری اور سلامتی کے تقاضوں کو بھی ناگزیر سمجھتی ہیں۔ یہی اختلافِ رائے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس حساس معاملے پر جذبات کے بجائے سنجیدہ، حقیقت پسندانہ اور جامع علاقائی مکالمہ کیا جائے تاکہ ایسی راہ نکالی جا سکے جو تمام فریقوں کے جائز تحفظات کو بھی مدنظر رکھے اور خطے میں اعتماد سازی کو بھی فروغ دے۔
اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی رہی تو اس کے نتائج صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہوگی، تیل کی قیمتیں نئی بلندیاں چھو سکتی ہیں، افراطِ زر میں اضافہ ہوگا، ترقی پذیر معیشتیں مزید دباؤ کا شکار ہوں گی اور عالمی مالیاتی استحکام کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان انہی ممالک کو ہوگا جو پہلے ہی معاشی مشکلات، توانائی کے بحران اور بیرونی قرضوں کے بوجھ سے نبرد آزما ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی خلیج کا امن کسی نظریاتی بحث کا موضوع نہیں بلکہ ایک بنیادی قومی مفاد ہے۔ پاکستان کی توانائی کی ضروریات، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد، خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط، سمندری تجارتی راستوں کی سلامتی اور مستقبل کی علاقائی سرمایہ کاری سب اسی استحکام سے وابستہ ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی مستقل پالیسی یہی رہی ہے کہ تنازعات کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
آج امتِ مسلمہ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ بیرونی طاقتوں کی ترجیحات کے مطابق تقسیم در تقسیم کا شکار رہنا چاہتی ہے یا اپنی اجتماعی دانش، سفارتی بصیرت اور سیاسی بالغ نظری کو بروئے کار لا کر ایک نئے علاقائی نظم کی بنیاد رکھنا چاہتی ہے۔ طاقت کا اصل سرچشمہ اسلحہ نہیں بلکہ اعتماد، اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی ہوتی ہے۔ جب مسلم دنیا اپنے اختلافات کو خود حل کرنے کی صلاحیت پیدا کر لے گی تو بیرونی مداخلت کی گنجائش خود بخود محدود ہوتی چلی جائے گی۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ تباہی، بے یقینی اور معاشی زوال کا پیغام لاتی ہیں، جبکہ امن ترقی، سرمایہ کاری، خوشحالی اور استحکام کی بنیاد بنتا ہے۔ آج خلیج ایک اور جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، اور نہ ہی دنیا ایک نئے عالمی اقتصادی بحران کی۔ یہی وہ لمحہ ہے جب قیادتوں کو جذباتی نعروں کے بجائے دانشمندانہ فیصلے کرنے ہوں گے، کیونکہ آنے والی نسلیں طاقت کے مظاہروں کو نہیں بلکہ امن قائم کرنے والوں کو یاد رکھتی ہیں۔
اگر مسلم دنیا نے بروقت اجتماعی بصیرت کا مظاہرہ کیا، باہمی اعتماد کی نئی بنیاد رکھی اور علاقائی تعاون کو فروغ دیا تو خلیج نہ صرف ایک اور تباہ کن جنگ سے محفوظ رہ سکتی ہے بلکہ وہ عالمی استحکام، اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کی نئی مثال بھی بن سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کے امن، امتِ مسلمہ کی وحدت اور پوری دنیا کی اقتصادی سلامتی کی حقیقی ضمانت بن سکتا ہے۔


