ہومانٹرنیشنلایرانی حقوق کے تحفظ تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، سپیکر...

ایرانی حقوق کے تحفظ تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، سپیکر ایرانی پارلیمنٹ

تہران (شِنہوا) ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران اس وقت تک امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے پر اتفاق نہیں کرے گا جب تک ایرانی عوام کے حقوق کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔

آن لائن پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قالیباف نے زور دیا کہ ایرانی مذاکرات کار "دشمن” کے بیانات اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں رکھتے۔

قالیباف نے کہا کہ "ہمارا معیار وہ ٹھوس کامیابیاں ہیں جو ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کے بدلے حاصل ہونی چاہئیں۔ ہم کسی بھی معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دیں گے جب تک ہمیں یقین نہ ہو جائے کہ ہم نے ایرانی قوم کے حقوق محفوظ کر لئے ہیں۔”

سپیکر نے میدان جنگ میں ایران کی "کامیابیوں” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری کا کام ان فتوحات کو سیاسی اور قانونی کامیابیوں میں تبدیل کرنا ہے۔

سپیکر نے خبردار کیا کہ جنگ کے نئے مرحلے میں "دشمن” اقتصادی دباؤ اور میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے داخلی اختلافات پیدا کر کے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے تاہم انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ایرانی عوام ان کوششوں کا مقابلہ کریں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں واشنگٹن کے ساتھ امن مذاکرات میں تہران کے اعلیٰ مذاکرات کار قالیباف نے کہا کہ "ہم رعایتیں مذاکرات سے نہیں بلکہ میزائلوں کے ذریعے حاصل کرتے ہیں، مذاکرات میں ہم صرف انہیں قابل فہم بناتے ہیں۔”

شمالی عمان کے چھوٹے سے قصبے خصب کے قریب آبنائے ہرمز کے پانیوں میں تجارتی بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔(شِنہوا)

دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور(آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران تیل بردار ٹینکر، کنٹینر بردار اور تجارتی جہازوں سمیت 28 بحری جہاز اس کی بحریہ کی اجازت اور تحفظ کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرے۔

ایران نے 28 فروری سے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی سخت کر دی تھی اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد اسرائیل یا امریکہ سے تعلق رکھنے والے جہازوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ بعد ازاں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے بھی اس آبی گزرگاہ پر اپنی پابندیاں نافذ کر دی تھیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں