جکارتہ (شِنہوا) جکارتہ کی مصروف سڑکوں پر مخصوص نیلی نمبر پلیٹوں والی الیکٹرک گاڑیاں (ای ویز) بڑھتی ہوئی تعداد میں بھاری ٹریفک کے درمیان رواں دواں نظر آ رہی ہیں۔
دارالحکومت کے گنجان مرکزی علاقوں سے لے کر پورے جزیرہ نما ملک کے اہم علاقائی شہروں تک چینی الیکٹرک گاڑیوں کے برانڈز آہستہ آہستہ انڈونیشی خاندانوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
انڈونیشین آٹوموٹو انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں انڈونیشیا میں بیٹری سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت 33 ہزار 150 یونٹس تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 95.9 فیصد زیادہ ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ چینی برانڈز اس تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ کے تقریباً 90 فیصد حصے پر قابض ہیں اور مختلف طبقوں کے مقامی صارفین کا اعتماد حاصل کر رہے ہیں۔
بہت سے انڈونیشی شہریوں کے لئے چینی الیکٹرک گاڑی خریدنے کی پہلی وجہ ایک نہایت عملی مسئلہ ہے یعنی گھریلو اخراجات میں بچت۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیاں بدستور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں زیادہ انڈونیشی صارفین پٹرول گاڑیوں کے طویل مدتی اخراجات پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔ اگرچہ انڈونیشیا نے اب تک ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ نہیں کیا تاہم مستقبل میں ممکنہ اضافے کے خدشات صارفین کو الیکٹرک گاڑیوں کی طرف مائل کر رہے ہیں۔
یہ تبدیلی شہری ٹرانسپورٹ پالیسیوں سے بھی متاثر ہو رہی ہے۔
جکارتہ میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لئے طویل عرصے سے مخصوص سڑکوں پر طاق اور جفت نمبر پلیٹ نظام نافذ ہے۔
بہت سے انڈونیشی صارفین کے نزدیک چینی برانڈ صرف کم قیمت کی وجہ سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باعث بھی پرکشش بن رہے ہیں۔


