حالیہ برسوں میں چین اور روس کے درمیان طلبہ کی سطح پر تبادلوں اور تعلیمی شراکت داریوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چین کے شمالی علاقے اندرونی منگولیا کا سرحدی شہر مین ژولی ثقافتی تبادلوں اور طلبہ کی دوطرفہ آمدورفت کے لئے ایک اہم دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): الیونا، چین میں زیرِ تعلیم روسی طالبہ
”میں 19 برس کی ہوں۔ میرا تعلق روس کے شہر اَرکسک سے ہے۔ مجھے چینی زبان اور ثقافت سیکھنا بہت پسند ہے۔ مجھے چین کی نانجنگ یونیورسٹی آف فنانس اینڈ اکنامکس میں داخلہ مل گیا ہے۔ میں تعلیم کے لئے رواں برس ستمبر میں نانجنگ جاؤں گی۔“
جیسے جیسے تعاون گہرا ہو رہا ہے چین اور روس کے درمیان سسٹر اسکولز (جڑواں تعلیمی اداروں) کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔
دونوں ممالک مشترکہ نصاب، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کے تبادلہ پروگراموں میں تعاون کر رہے ہیں۔
تعاون پر مبنی 150 سے زائدمشترکہ پروگرامز اور اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): یو جئے، ڈائریکٹر، انٹرنیشنل ایکسچینج سینٹر، مین ژولی انٹرنیشنل ووکیشنل کالج
”ہم نے سال 2014 میں زبان کی تربیت کا پروگرام شروع کیا تھا۔ اب تک ہم 200 سے زائد روسی طلبہ کو تربیت دے چکے ہیں۔تربیت مکمل کرنے پر ان طلبہ میں سے کچھ مزید تعلیم کے لئے معروف چینی جامعات میں چلےجاتے ہیں جبکہ کچھ ایسے ہیں جو چینی زبان میں اپنی مہارت کو چین روس سرحدی علاقے میں کاروبار اور سیاحت جیسے شعبوں میں استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے حقیقی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔“
چین کے شہر مان ژولی سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


