واشنگٹن (شِنہوا) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دیتا ہے تو امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر "انتہائی سنجیدہ مذاکرات” کے لئے تیار ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن مرحلہ وار حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے اور ایسے عبوری معاہدے کو قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے جس میں فوری طور پر ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل حل شامل نہ ہو۔
روبیو نے نئی دہلی کے دورے میں مختصر انٹرویو کے دوران اخبار کو بتایا کہ آپ 72 گھنٹے میں کسی کاغذ کے ٹکڑے پر جوہری معاملہ حل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جانا چاہیے اور پھر ہم طے شدہ اصولوں کے تحت افزودگی، انتہائی افزودہ یورینیم اور کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے ایران کے وعدے پر انتہائی سنجیدہ مذاکرات کریں گے۔
روبیو نے مزید کہا کہ اس عمل میں برسوں نہیں لگنے چاہئیں لیکن ان تکنیکی معاملات کو حل کرنے میں کچھ وقت ضرور درکار ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ نے اشارہ دیا کہ اگر دو ماہ کے اندر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو امریکہ ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکیاں دے سکتا ہے۔
روبیو نے کہا کہ بالآخر حکمت عملی کو وہ نتائج دینا ہوں گے جو ہم چاہتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو صدر کے پاس 60 دن بعد بھی وہ تمام آپشنز موجود ہوں گے جو آج موجود ہیں۔
امریکہ اور ایران میں سے کسی نے بھی مذاکرات کی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کیں۔ متعدد ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کا مرحلہ وار معاہدہ آئندہ مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دباؤ کمزور کر سکتا ہے۔


