واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد نہیں کرنا چاہتا، یوں انہوں نے گزشتہ ماہ دیئے گئے اپنے اس بیان سے رجوع کر لیا ہے جس میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ واشنگٹن ایسے ٹول وصول کرے گا۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ یہ کھلا رہے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ آزاد ہو۔ ہم ٹول نہیں چاہتے ۔ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔”
اگرچہ اطلاعات کے مطابق ایک نئی قائم شدہ ایرانی ایجنسی نے ٹول وصول کرنا شروع کر دیا ہے تاہم ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت ٹول وصول نہیں کر رہا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ "کوئی بھی جہاز ہماری منظوری کے بغیر وہاں سے گزر نہیں سکا۔”
اس سے قبل جمعرات کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ تہران کا ٹرانزٹ ٹول نافذ کرنے کا منصوبہ واشنگٹن کے ساتھ امن معاہدے کو "ناقابل عمل” بنا دے گا۔
روبیو نے سویڈن میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے لئے روانگی سے قبل صحافیوں سے کہا کہ "دنیا میں کوئی بھی ٹول نظام کے حق میں نہیں ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ناقابل قبول ہوگا،” ۔ "اگر وہ اس پر عمل جاری رکھتے ہیں تو سفارتی معاہدہ ممکن نہیں رہے گا۔”
جب اپریل میں ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا امریکہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول وصول کرنے کی اجازت دے گا، تو انہوں نے اے بی سی نیوز کو بتایا: کہ "ہم اسے مشترکہ منصوبے کے طور پر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ اسے محفوظ بنانے اور دوسرے بہت سے لوگوں سے بھی محفوظ رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔”


