حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی و گیس قیمتیں بڑھانے کی یقین دہانی کرا دی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان بجٹ مذاکرات جاری ہیں۔
حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور آئندہ مالی اہداف پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی گئی کہ پروٹیکٹڈ صارفین کے سوا بجلی و گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
حکام نے بتایا کہ نیپرا کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس اور ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹس بروقت نافذ رہیں گے، حکومت نے بتایا کہ عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار رکھی گئی ہے، پیٹرول، بجلی و گیس ٹیرف میں باقاعدہ ردوبدل کے ذریعے لاگت کی مکمل وصولی جاری ہے جبکہ کمزور اور کم آمدن طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈی جاری رکھی جائے گی۔
آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ توانائی اصلاحات سے بجلی نظام کی کارکردگی بہتر اور نقصانات میں کمی کی توقع ہے۔
علاوہ ازیں آئی ایم ایف کو بجلی کی طرح گیس سیکٹر کا گردشی قرض سہ ماہی بنیادوں پر پبلک کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
وفد کو بتایا گیا کہ مالی سال 2027کیلئے گیس گردشی قرضہ مینجمنٹ پلان پر بھی کام جاری ہے۔
جنوری 2027ء سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ مکمل طور پر نافذ رہے گا جبکہ مالی سال 2027ء کیلئے بجلی سبسڈی زیادہ سے زیادہ 830 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو جی ڈی پی کے صرف 0.6 فیصد کے برابر ہوگی، یہ سبسڈی ڈسکوز، کے الیکٹرک، فاٹا بقایاجات، زرعی ٹیوب ویلز اور سرکلر ڈیٹ ادائیگیوں کیلئے استعمال کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق آئی پی پیز کیساتھ بقایاجات اور جرمانوں سے متعلق معاہدے جون 2026ء تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ مالی سال 2027ء میں گردشی قرضے کو 300ارب روپے تک محدود رکھا جائے گا۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو مالی سال 2031ء تک بجلی شعبے کا گردشی قرض صفر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔


