بیجنگ (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بدھ کے روز بیجنگ کےعظیم عوامی ہال میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
شی نے کہا کہ یہ صدر پوتن کا چین کا 25 واں دورہ ہے جو چین اور روس کے درمیان تعلقات کی اعلیٰ سطح اور خصوصی نوعیت کا بھرپور ثبوت ہے۔
شی نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں کے دوران چین اور روس کے تعلقات کی حیثیت مسلسل بلند ہوتی گئی ہے اور اب یہ نئے دور کی جامع تزویراتی شراکت داری کی صورت میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور بڑی طاقتوں کے تعلقات کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں کے دوران دونوں ممالک نے بین الاقوامی سطح پر غیر جانبداری و انصاف کو برقرار رکھنے اور ایک نئی قسم کے بین الاقوامی تعلقات کی تعمیر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ ایک صدی میں نہ دیکھی جانے والی گہری عالمی تبدیلیوں کے درمیان ایک کلیدی اور مستقل قوت بن کر ابھرے ہیں۔
شی نے اعلیٰ معیار کے باہمی سیاسی اعتماد کو مستحکم کرنے اور ایک دوسرے کے لئے تزویراتی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کو اپنے بنیادی مفادات اور اہم تحفظات سے متعلق معاملات پر ایک دوسرے کی مضبوط حمایت جاری رکھنی چاہیے جبکہ ہر سطح پر تزویراتی رابطوں اور تبادلوں کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔
چینی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور روس کو اعلیٰ معیار کے باہمی مفید تعاون کو تقویت دینی چاہیے اور مشترکہ طور پر اپنے اپنے ممالک کی ترقی اور بحالی کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کو چین کے 15 ویں 5 سالہ منصوبے (2026-2030) اور روس کی 2030 تک کی ترقیاتی حکمت عملی کے درمیان ہم آہنگی کو گہرا کرنا چاہیے اور مختلف شعبوں میں باہمی طور پر مفید تعاون کو مزید بہتر اور اپ گریڈ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو یکطرفہ غنڈہ گردی کی تمام شکلوں اور تاریخ کا رخ موڑنے کی کوشش کرنے والے اقدامات کی مخالفت کرنی چاہیے، خاص طور پر ایسی اشتعال انگیزیوں کی جو دوسری جنگ عظیم کے نتائج کو جھٹلاتی ہیں اور فسطائیت و عسکریت پسندی کو چھپانے اور دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
صدر پوتن نے کہا کہ روس-چین تعلقات اس وقت ایک بے مثال اعلیٰ سطح پر ہیں اور دونوں ممالک مسلسل باہمی احترام، برابری کی بنیاد پر باہمی امداد اور ایک دوسرے کے تعاون کے جذبے کے تحت دوطرفہ اشتراک عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
پوتن نے اس بات کو واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی یہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں سے متاثر ہوتا ہے۔
پوتن نے مزید کہا کہ روس اور چین بین الاقوامی سطح پر قریبی تزویراتی ہم آہنگی کو برقرار رکھیں گے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کو برقرار رکھنے اور عالمی سلامتی و استحکام کے تحفظ کے لئے مل کر کام کریں گے۔


