چین میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں (ای ویز) اب اپنی اضافی بجلی قومی گرڈ کو واپس فراہم کر سکتی ہیں۔
صوبہ انہوئی کا شہر ہیفے مارچ 2025 میں چین کے اُن ابتدائی شہروں میں شامل ہو گیا تھا جہاں بڑے پیمانے پر وہیکل ٹو گرڈ (وی ٹو جی) ایپلی کیشنز کے پائلٹ منصوبے شروع کئے گئے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): زو جِنگ فان، اسپیشلسٹ، اسٹیٹ گرڈ ہیفے الیکٹرک پاور سپلائی کمپنی
"جب بجلی کی طلب عروج پر ہوتی ہے تو الیکٹرک گاڑیاں اپنی توانائی واپس گرڈ میں فراہم کر سکتی ہیں۔ یوں یہ گاڑیاں موبائل پاور بینک میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح بجلی کے نظام پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان کو اضافی آمدن حاصل کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔”
اب تک ہیفےمیں وی ٹو جی کے 15 نمائشی منصوبے شروع کئے جا چکے ہیں جن میں 170 دو طرفہ چارجنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔
شہر کی مجموعی ریورس ڈسچارج صلاحیت اب 56 ہزار 400 کلو واٹ تک پہنچ چکی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): سو ژِہاؤ، الیکٹرک گاڑی کا ڈرائیور
"اب الیکٹرک گاڑیاں اپنی بجلی واپس گرڈ کو فراہم کر سکتی ہیں اور مالکان اس سے اضافی آمدن بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ کافی دلچسپ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی لئے میں نے یہاں آ کر خود اسے دیکھا۔”
ہیفے، چین سےشِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


