ہومتازہ ترینچین کی زیرو ٹیرف پالیسی کے 100 روز بعد افریقی برآمد کنندگان...

چین کی زیرو ٹیرف پالیسی کے 100 روز بعد افریقی برآمد کنندگان کو ابتدائی فوائد حاصل

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): چارلس اونو نائیجو، ڈائریکٹر، سینٹر فار چائنا اسٹڈیز، نائجیریا
"کئی برسوں سے افریقہ چین کے ساتھ تجارت بڑھانے کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور کہتا رہا ہے کہ ہم تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ چین نے اس مطالبے کا جواب دیا ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جیمز شِک واٹی، کینیائی ماہرِ اقتصادیات
"چین نے افریقہ کے لیے اپنی منڈی کھولنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): اسٹیفی لائر، منتظم بین الاقوامی مارکیٹنگ و سیلز، ڈائمرزڈال وائن اسٹیٹ، جنوبی افریقہ
"یہ دونوں فریقوں کے لیے باہمی فائدے کی صورتحال ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): ڈینس مونے موینیکی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، چائنا افریقہ سینٹر، افریقہ پالیسی انسٹی ٹیوٹ، کینیا
"زیرو ٹیرف پالیسی گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے گیم چینجر ثابت ہونے جا رہی ہے۔”

یکم مئی کو چین نے ان 53 افریقی ممالک کے لیے مکمل زیرو ٹیرف پالیسی نافذ کر دی جن کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات ہیں۔

100 روز بعد افریقی مصنوعات کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد نے چین کی وسیع منڈی تک رسائی حاصل کر لی ہے۔

چین کے محکمۂ کسٹمز کے مطابق جنوری سے جون کے دوران چین اور افریقہ کے درمیان تجارت ایک اعشاریہ 41 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی۔

مئی اور جون میں افریقہ سے چین کی درآمدات 193.8 ارب یوآن تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 23.5 فیصد زیادہ ہیں۔

ایووکاڈو، سیب اور مالٹوں کی درآمدات میں بالترتیب 130 فیصد، 89.6 فیصد اور 27.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): جیمز کاندویا، سینئر اقتصادی و کاروباری صحافی، دی گارڈین اخبار، تنزانیہ
"طویل عرصے سے افریقہ کی بہت سی مصنوعات کو زیادہ ٹیرف، سخت معیار اور پیچیدہ طریقہ کار کے باعث بڑی عالمی منڈیوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ اس لیے جب چین نے افریقی مصنوعات کے لیے اپنی منڈی زیرو ٹیرف کے ساتھ کھولی تو اس سے فوری طور پر حقیقی مواقع پیدا ہوئے ہیں۔”

ساؤنڈ بائٹ 6 (انگریزی): جیمز شِک واٹی، کینیائی ماہرِ اقتصادیات
"میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے اس اقدام نے دنیا کو ایک بڑا جغرافیائی سیاسی پیغام دیا ہے کہ جب دنیا تحفظ پسندانہ پالیسیوں کی جانب بڑھ رہی ہے تو چین نے افریقہ کے لیے اپنی منڈی کھول دی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم نے چین کو افریقی مصنوعات کی برآمدات میں زبردست اضافہ دیکھا ہے، خاص طور پر زرعی مصنوعات کی برآمدات میں۔ اور یہ صرف اس پالیسی کے نفاذ کے 100 دنوں کا نتیجہ ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 7 (انگریزی): اسٹیفی لائر،منتظم بین الاقوامی مارکیٹنگ و سیلز، ڈائمرزڈال وائن اسٹیٹ، جنوبی افریقہ
"ظاہر ہے کہ اس سے شپنگ کمپنیوں، مال برداری کے شعبے، ایجنٹس اور درآمد کنندگان کے لیے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ میرے خیال میں اس سے سب کو بہت فائدہ پہنچے گا۔”

ساؤنڈ بائٹ 8 (انگریزی): ڈینس مونے موینیکی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، چائنا افریقہ سینٹر، افریقہ پالیسی انسٹی ٹیوٹ، کینیا
"زیرو ٹیرف کی پالیسی گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔ اس کے نتیجے میں چین اور افریقی ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوگا اور یہ تجارت بہت تیزی سے آگے بڑھے گی۔”

نائیروبی، ابوجا، دارالسلام، تنزانیہ اور کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں