ہومتازہ ترینچین میں جولائی کے دوران قیمتوں کے اضافے کی رفتار معتدل رہی

چین میں جولائی کے دوران قیمتوں کے اضافے کی رفتار معتدل رہی

بیجنگ (شِنہوا) جولائی میں مجموعی طور پر چین کی صارف قیمتوں میں اضافے کی رفتار معتدل رہی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال کے دوسرے حصے میں عوامی خرید و فروخت میں اضافے کی پالیسیوں کی مکمل گنجائش موجود ہے۔

قومی ادارہ شماریات (این بی ایس) کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں افراط زر کا اہم پیمانہ سمجھے جانے والے صارف قیمت اشاریے (سی پی آئی) میں گزشتہ ماہ سالانہ بنیاد پر 0.5 فیصد اضافہ ہوا۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی سی پی آئی جس میں خوراک اور توانائی کی قیمتیں شامل نہیں سالانہ بنیادوں پر 0.9 فیصد بڑھا۔

این بی ایس کی ماہر شماریات ڈونگ لی جوآن نے بتایا کہ جون کے مقابلے میں سالانہ بنیاد پر سی پی آئی میں اضافے کی شرح 0.5 فیصد پوائنٹس کم ہوئی جس کی بنیادی وجہ پٹرول کی قیمتوں میں سست روی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر ایک فیصد اضافہ ہوا جبکہ اضافے کی یہ شرح پچھلے ماہ کے مقابلے میں 16 فیصد پوائنٹس نیچے آئی۔ اس کمی نے مجموعی سی پی آئی میں اضافے کی شرح کو جون کے مقابلے میں تقریباً 0.45 فیصد پوائنٹس کم کیا جس سے توانائی کی مجموعی قیمتوں میں اضافے کی شرح گھٹ کر 0.6 فیصد پر آ گئی۔

توانائی کو نکال کر صنعتی صارفین کی مصنوعات کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 1.5 فیصد اضافہ ہوا جو ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں 0.2 فیصد پوائنٹس سست رہا اور اس نے سی پی آئی کی نمو میں تقریباً 0.37 فیصد پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔

خدمات کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 0.7 فیصد اضافہ ہوا جو جون کے مقابلے میں 0.1 فیصد پوائنٹس کم ہے اور اس نے سی پی آئی کی نمو میں تقریباً 0.36 فیصد پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔ خوراک کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 1.5 فیصد کمی آئی جس سے پچھلے ماہ کے مقابلے میں کمی کی شدت 0.1 فیصد پوائنٹس کم ہو گئی اور اس نے سی پی آئی کو تقریباً 0.25 فیصد پوائنٹس نیچے دھکیلا۔

ماہانہ بنیاد پر جولائی میں سی پی آئی میں 0.1 فیصد کی معمولی کمی آئی جبکہ پچھلے ماہ کے مقابلے میں اس کمی کی شرح میں 0.2 فیصد پوائنٹس کی بہتری آئی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں