یروشلم (شِنہوا) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کی قیادت میں قائم ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی جانب سے پیش کئے گئے غزہ کے لئے 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کئے جانے تک اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جائے گی۔
یہ اسرائیل کی جانب سے اس منصوبے کو مسترد کرنے کا پہلا باضابطہ اور واضح اعلان ہے۔
نیتن یاہو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج، جس کے بارے میں اسرائیلی حکام پہلے اندازہ لگا چکے ہیں کہ وہ غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے، علاقے میں ’’خطرات کو ناکام بنانے‘‘ کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ’’جب میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی بات کرتا ہوں تو میری مراد بھاری ہتھیاروں، نسبتاً ہلکے ہتھیاروں، یعنی تمام ہتھیاروں سے ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اب بھی امریکہ کے ساتھ اس منصوبے کی دستاویز پر مذاکرات کر رہا ہے۔ ان کے بقول ’’ان کے پاس کچھ تجاویز ہیں، جن میں سے بعض ہمیں قابل قبول ہیں اور بعض نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ان معاملات پر اپنے موقف پر کیسے قائم رہنا ہے۔‘‘
یہ منصوبہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے غزہ کے لئے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملادینوف نے مئی میں تیار کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جولائی کے آخر میں اس منصوبے کا باضابطہ اعلان کیا تھا اور اس وقت کہا تھا کہ بورڈ حماس اور غزہ میں موجود دیگر مسلح گروہوں کو ’’مکمل طور پر غیر مسلح‘‘ کرنے پر اتفاق کر چکا ہے۔
ٹرمپ کے اعلان کے ایک روز بعد حماس نے کہا تھا کہ اس نے ’’شدید‘‘ مذاکرات کے بعد غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لئے ’’روڈ میپ کے تازہ ترین مسودے‘‘ سے اتفاق کر لیا ہے، تاہم اس نے ہتھیاروں سے متعلق انتظامات کو ’’جارحیت‘‘ کے مکمل خاتمے، غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا اور تعمیر نو میں پیش رفت سے مشروط کیا تھا۔
غزہ میں قائم محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اکتوبر 2025 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 1250 سے زائد افراد جاں بحق اور 4100 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔


