ہومتازہ ترینپاکستان میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے قیام کا فیصلہ

پاکستان میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے قیام کا فیصلہ

لاہور (لارڈ میڈیا): آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال نے پاکستان کی توانائی سلامتی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ اگرچہ وہاں جہاز رانی مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، مگر کشیدگی کے دوران سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے واضح کر دیا کہ پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لئے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کا قیام قومی سلامتی کا تقاضا بن چکا ہے۔

تحقیقاتی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے پاس حکومت کی ملکیت میں ایسا کوئی قومی سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو موجود نہیں جو کئی ہفتوں یا مہینوں تک ضرورت کو پورا کرسکے۔ توانائی ماہرین کے مطابق پاکستان کو اب مستقل بنیادوں پر قومی ذخائر کے قیام کی طرف بڑھنا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق سابق حکومتوں کے دور میں توانائی ماہرین نے کم از کم ساٹھ دن کے قومی ذخائر بنانے کی سفارش کی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے اس صورتحال کے بعد سٹریٹجک ذخائر کے قیام پر دوبارہ کام تیز کیا ہے۔

وزارتِ پیٹرولیم نے مختلف ماڈلز کا جائزہ لینا شروع کیا ہے، جن میں بندرگاہوں کے قریب بڑے آئل سٹوریج ٹرمینلز، زیر زمین یا جدید سٹیل ٹینکوں کی تعمیر، نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری، اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے لازمی کم از کم ذخائر کی شرط شامل ہے۔

قانونی امور کے ماہر اظہر صدیق نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں سابق چیف جسٹس قاسم خان کی عدالت میں 2020 میں انہوں نے ایک پٹیشن دائر کی تھی جس میں آئل کے سٹریٹجک ذخائر کے معاملے کو اٹھایا گیا تھا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں