کینبرا (شِنہوا) آسٹریلیا، فرانس اور چین کے محققین نے ایک ایسی نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو فیکٹریوں کے دھوئیں سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پہلے صاف کئے بغیر براہ راست ایندھن میں تبدیل کر سکتی ہے۔
پیر کے روز آسٹریلیا کی ایڈیلیڈ یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے کاربن کیپچر ٹیکنالوجیز کو درپیش ایک بڑے چیلنج پر قابو پا لیا ہے، جو صنعتی چمنیوں سے خارج ہونے والی مختلف گیسوں کے پیچیدہ امتزاج سے متعلق ہے۔ صنعتی دھواں عالمی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایڈیلیڈ یونیورسٹی اور فرانس کی یونیورسٹی آف مونٹ پیلیئر کی قیادت میں کام کرنے والی تحقیقی ٹیم نے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جو ایک خصوصی نامیاتی مائع کی مدد سے صنعتی اخراج میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو موثر انداز میں کاربن مونو آکسائیڈ میں تبدیل کرتا ہے، جو ایندھن اور مختلف کیمیائی مصنوعات کی تیاری کے لئے بنیادی خام مال کی حیثیت رکھتی ہے۔
محققین کے مطابق صنعتی چمنیوں سے خارج ہونے والی گیسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار نسبتاً کم جبکہ نائٹروجن اور آکسیجن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اضافی گیسیں تبدیلی کے عمل کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے موجودہ کاربن کیپچر ٹیکنالوجیز میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مفید مصنوعات میں تبدیل کرنے سے پہلے اسے الگ کرکے خالص کرنا ضروری ہوتا ہے، جس سے یہ عمل مہنگا اور زیادہ توانائی طلب بن جاتا ہے۔
ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے شعبہ کیمیکل انجینئرنگ کے ڈین پروفیسر جیاؤ یان نے کہا کہ ٹیم نے نامیاتی سالونٹس کا ایسا مرکب تیار کیا ہے جو ہائیڈروجن بانڈنگ کو کمزور کرتا ہے، غیر ضروری ضمنی کیمیائی عمل کو روکتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تبدیلی کو فروغ دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں صنعتی دھوئیں سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو وسیع پیمانے پر صاف یا خالص کیے بغیر براہ راست استعمال کیا جا سکتا ہے۔
15 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ اور 8 فیصد آکسیجن پر مشتمل مصنوعی صنعتی دھوئیں پر کئے گئے تجربات میں اس نظام نے کاربن مونو آکسائیڈ کی تیاری میں تقریباً 100 فیصد انتخابی کارکردگی حاصل کی اور 100 گھنٹے سے زائد عرصے تک مسلسل اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ کام کرتا رہا۔
محققین نے بتایا کہ جب اس نظام کو ایک اعلیٰ کارکردگی والے شمسی سیل کے ساتھ جوڑا گیا تو شمسی توانائی سے ایندھن میں تبدیلی کی مجموعی کارکردگی تقریباً 5.5 فیصد رہی، جو خالص کاربن ڈائی آکسائیڈ استعمال کرنے والے نظاموں کے برابر ہے۔
ان کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی سٹیل، ایلومینا ریفائننگ، سیمنٹ، کیمیکلز اور توانائی پیدا کرنے جیسی زیادہ اخراج والی صنعتوں میں ماحول دوست اور صاف پیداوار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔


